LIVE
Loading Breaking News...

دریائے ڈینیوب میں خشک سالی سے نازی دور کے جہازوں کے ملبے دریافت

News Image
سربیا کے قریب دریائے ڈینیوب میں ریکارڈ کم پانی کی سطح کے باعث دوسری جنگ عظیم کے دوران ڈوبنے والے نازی جرمن بحری جہازوں کے ملبے ظاہر ہو گئے ہیں۔ ان تاریخی جنگی جہازوں کے ملبے نکلنے سے ایک بار پھر جنگی تاریخ کے اہم واقعات تازہ ہو گئے ہیں اور ماہرین اس صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔
یورپ میں پڑنے والی شدید خشک سالی اور گرمی کی لہر نے دریائے ڈینیوب میں پانی کی سطح کو ریکارڈ نچلی سطح تک پہنچا دیا ہے، جس کے نتیجے میں دوسری جنگ عظیم کے دوران ڈوبنے والے نازی جرمن بحری جہازوں کے ملبے پانی سے باہر نکل آئے ہیں۔ سربیا کے شہر پراھوو کے قریب دریائے ڈینیوب کے خشک ہوتے ہوئے کناروں پر اب یہ تاریخی جہاز واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں، جو دہائیوں سے پانی کی تہہ میں چھپے ہوئے تھے۔ یہ جہاز ان سیکڑوں بحری جہازوں میں شامل ہیں جنہیں سن 1944 میں نازی جرمنی کی بحریہ نے سوویت یونین کی پیش قدمی کے دوران ڈبو دیا تھا تاکہ وہ دریا میں نیویگیشن کو مسدود کر سکیں اور دشمن کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کر سکیں۔ مقامی حکام اور ماہرین کا کہنا ہے کہ ان جنگی جہازوں کے باہر آنے سے دریائے ڈینیوب میں بحری جہاز رانی کے لیے ایک بار پھر شدید خطرات پیدا ہو گئے ہیں، کیونکہ پانی کی سطح اتنی کم ہو گئی ہے کہ تجارتی جہازوں کا گزرنا محال ہو گیا ہے۔ ان ملبوں کی موجودگی نہ صرف ایک تاریخی یاد دہانی ہے بلکہ اس نے موجودہ وقت میں ٹرانسپورٹیشن کے مسائل کو بھی دوچند کر دیا ہے۔ ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ موسمیاتی تبدیلیاں کس قدر تیزی سے دنیا بھر میں اثر انداز ہو رہی ہیں اور اس سے نہ صرف قدرتی ماحول بلکہ ہماری تاریخی وراثت بھی براہ راست متاثر ہو رہی ہے۔ اس انکشاف کے بعد تاریخ دانوں اور سیاحوں کی ایک بڑی تعداد اس علاقے کا رخ کر رہی ہے تاکہ ان تاریخی نوادرات کا قریب سے مشاہدہ کیا جا سکے۔ دوسری طرف، سربیا کی حکومت ان ملبوں کو ہٹانے اور دریا کے راستے کو دوبارہ صاف کرنے کے لیے مختلف تجاویز پر غور کر رہی ہے تاکہ مستقبل میں بحری نقل و حرکت کو بحال کیا جا سکے اور دریائے ڈینیوب کے اس اہم تجارتی راستے کو دوبارہ مکمل طور پر فعال بنایا جا سکے۔