World
امریکی سیاست: کانگریس میں حامی اسرائیل گروپوں کا اثر کم ہوا، ٹرمپ
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ کانگریس میں پرو اسرائیل لابی کا اثر و رسوخ اب ماضی جیسا نہیں رہا۔ انہوں نے اس تبدیلی کو امریکی سیاست میں آنے والی بڑی تبدیلیوں کا نتیجہ قرار دیا ہے۔
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اہم بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکی کانگریس کے اندر حامی اسرائیل گروپوں اور لابی کا اثر و رسوخ اب پہلے جیسا طاقتور نہیں رہا ہے۔ ان کے مطابق وقت کے ساتھ ساتھ امریکی سیاسی ڈھانچے میں نمایاں تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں جن کی وجہ سے روایتی طاقت کے توازن میں بھی فرق آیا ہے۔ ٹرمپ کا یہ موقف امریکی سیاست اور خارجہ پالیسی کے مبصرین کے درمیان خاصی بحث کا موضوع بن گیا ہے، کیونکہ دہائیوں تک واشنگٹن میں اسرائیل نواز لابی کو انتہائی بااثر مانا جاتا رہا ہے۔ اپنے ایک حالیہ انٹرویو اور بیانات میں، ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ کیپیٹل ہل میں اب صورتحال بدل چکی ہے اور ماضی کے مقابلے میں اس لابی کی گرفت اب کمزور پڑتی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی سیاست میں نئی نسل کے قانون سازوں کے آنے اور بدلتے ہوئے عوامی رجحانات کی وجہ سے خارجہ پالیسی کے معاملات پر روایتی مؤقف میں تبدیلی آ رہی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر امریکہ کے اندر مختلف سیاسی اور عوامی حلقوں کی آراء منقسم دکھائی دیتی ہیں۔ اگرچہ واشنگٹن میں اسرائیل کے حامیوں کی اب بھی مضبوط موجودگی ہے، تاہم ٹرمپ کا یہ دعویٰ اس بحث کو مزید تقویت دیتا ہے کہ امریکی قانون سازوں کے فیصلے اب پہلے کی نسبت مختلف دباؤ اور زمینی حقائق کے تحت ہو رہے ہیں۔ اس بدلتے ہوئے سیاسی منظر نامے کے آنے والے صدارتی اور پارلیمانی انتخابات پر بھی گہرے اثرات مرتب ہونے کا امکان ظاہر کیا جا रहा ہے۔