LIVE
Loading Breaking News...

عوام پاکستان کی ڈی لسٹنگ: شاہد خاقان عباسی کا الیکشن کمیشن سے فوری سماعت کا مطالبہ

News Image
سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر قیادت قائم سیاسی جماعت عوام پاکستان نے الیکشن کمیشن کی جانب سے انٹرا پارٹی انتخابات نہ کرانے کے الزام میں جماعت کو ڈی لسٹ کرنے کے فیصلے کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔ پارٹی صدر نے چیف الیکشن کمشنر کو خط لکھ کر اس کارروائی کو بے بنیاد قرار دیا اور مؤقف کی وضاحت کے لیے فوری سماعت کی درخواست کی ہے۔
اسلام آباد: سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی سربراہی میں قائم سیاسی جماعت عوام پاکستان نے الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کے اس فیصلے کو چیلنج کر دیا ہے جس میں پارٹی کو مبینہ طور پر انٹرا پارٹی انتخابات نہ کرانے کی پاداش میں ڈی لسٹ کیا گیا تھا۔ جماعت نے اس اقدام کو من مانا، غیر مصدقہ اور غیر معمولی قرار دیا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کے نام 12 اگست 2026 کو لکھے گئے خط میں پارٹی کے صدر شاہد خاقان عباسی نے مؤقف اختیار کیا کہ سات اگست کو جاری ہونے والے الیکشن کمیشن کے نوٹیفیکیشن نے انہیں حیرت میں ڈال دیا ہے، جس میں تین اگست کے حکم کا حوالہ دیا گیا تھا۔ خط میں وضاحت کی گئی کہ عوام پاکستان نے قومی جنرل کونسل اور دیگر عہدیداران کے لیے انٹرا پارٹی انتخابات 26 مارچ سے دو اپریل 2026 کے درمیان منعقد کیے تھے۔ شاہد خاقان عباسی کے مطابق یہ انتخابات الیکشن کمیشن کی جانب سے جنوری 2026 میں دی گئی توسیع کی مدت کے اندر ہی کرائے گئے تھے۔ انتخابات کے مکمل نتائج اور دستاویزی ثبوت چھ اپریل 2026 کو الیکشن کمیشن میں جمع کرا دیے گئے تھے جن میں یہ بتایا گیا تھا کہ اس انتخابی عمل میں 12 ہزار 846 پارٹی ارکان نے بھرپور حصہ لیا تھا اور یہ عمل الیکشن ایکٹ 2017 کے عین مطابق شفاف طریقے سے مکمل کیا گیا تھا۔ شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ ڈی لسٹنگ کا یہ اقدام الیکشن کمیشن کے پاس موجود ریکارڈ کے برعکس ہے اور یہ کارروائی جماعت کا مؤقف سنے بغیر عمل میں لائی گئی۔ انہوں نے چیف الیکشن کمشنر سے استدعا کی کہ اس معاملے پر کمیشن کی جانب سے فوری سماعت کی جائے تاکہ جماعت اپنے حق میں تمام دستاویزی حقائق پیش کر سکے۔ آئین کا آرٹیکل 17 شہریوں کو سیاسی جماعتیں بنانے کا حق دیتا ہے تاہم انتخابی نشان کے حصول کے لیے الیکشن کمیشن کے پاس رجسٹریشن لازمی قانونی تقاضا ہے۔ واضح رہے کہ عوام پاکستان کو شاہد خاقان عباسی نے مسلم لیگ ن سے راہیں جدا کرنے کے بعد 2024 میں متعارف کرایا تھا تاکہ ملکی سیاست میں ایک متبادل مرکزیت فراہم کی جا سکے۔ حالیہ نوٹیفیکیشن کے بعد الیکشن کمیشن کے فیصلے کے تحت جماعت عارضی طور پر ڈی لسٹ ہو چکی ہے جس کے باعث وہ اپنی شناخت اور انتخابی نشان کے ساتھ انتخابات میں حصہ لینے کی اہل نہیں رہے گی جب تک کہ اس کی دوبارہ رجسٹریشن کا عمل مکمل نہیں ہو جاتا۔