LIVE
Loading Breaking News...

کمپیوٹر میں ٹ্রوجن وائرس کا حملہ اور حفاظتی اقدامات

News Image
ایک کمپیوٹر صارف کو اس وقت شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جب ایک مشکوک فائل کے ذریعے ٹ্রوجن وائرس نے ان کے سسٹم کو متاثر کیا۔ وائرس کے حملے کے باعث گوگل کروم براؤزر خود بخود کھل گیا اور ہزاروں نامناسب ویب سائٹس تک رسائی کی کوشش کی گئی۔
سائبر سکیورٹی اور وائرس رিমوو کرنے سے متعلق امدادی پلیٹ فارمز پر ایک پریشان کن واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ایک صارف نے اپنے کمپیوٹر میں ممکنہ ٹ্রوجن وائرس (Trojan Infection) کے حملے کی اطلاع دی ہے۔ صارف کے مطابق، یہ مسئلہ اس وقت پیش آیا جب اچانک ان کا گوگل کروم براؤزر خود بخود کھل گیا اور اس نے ایک لاکھ سے زائد نامناسب اور فحش ویب سائٹس کو کھولنے کی کوشش کی۔ اس اچانک ڈیجیٹل حملے نے صارف کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا۔ ابتدائی تحقیقات اور صارف کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق اس مشکوک انفیکشن کے پیچھے ایک فائل کا ہاتھ تھا جس کا نام 'Torment' بتایا جاتا ہے۔ اس فائل کے سسٹم میں آتے ہی مالویئر نے براؤزر پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کی۔ صارف نے اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے فوری طور پر وائرس سے متعلقہ تمام ڈیجیٹل ڈیٹا، کیشے اور مشکوک فائلز کو ڈیلیٹ کرنے کی کوشش کی تاکہ سسٹم کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔ ماہرینِ معاشیات اور کمپیوٹر سکیورٹی کے مطابق ٹ্রوجن ہارس جیسے وائرسز سسٹمز میں پوشیدہ رہتے ہیں اور موقع ملنے پر صارف کی اجازت کے بغیر بیک گراؤنڈ میں خطرناک سرگرمیاں انجام دیتے ہیں۔ ایسے حملے نہ صرف براؤزر کو ہائی جیک کر سکتے ہیں بلکہ ذاتی ڈیٹا چوری کرنے اور سسٹمز کی کارکردگی کو شدید متاثر کرنے کا باعث بھی بنتے ہیں۔ سکیورٹی ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ نامعلوم ذرائع سے ڈاؤن لوڈ کردہ فائلز سے سخت محتاط رہنا چاہیے۔ اس واقعے کے بعد کمپیوٹر یوزرز کے لیے یہ انتباہ سامنے آیا ہے کہ وہ اپنے سسٹمز پر مستند اینٹی وائرس اور اینٹی مالویئر سافٹ ویئر کا استعمال کریں اور باقاعدگی سے سسٹم کی اسکیننگ کریں۔ اگر کسی بھی مشکوک فائل یا غیر معمولی سرگرمی کا سامنا ہو تو فوری طور پر پروفیشنل سپورٹ فورمز سے مدد لی جائے تاکہ بڑے نقصان سے بچا جا سکے۔