Technology
الیکٹرانک میڈیکل ریکارڈز اور مصنوعی ذہانت کا طبی شعبے میں استعمال
ط طبی شعبے میں الیکٹرانک میڈیکل ریکارڈز (EMR) کے نفاذ سے پیدا ہونے والے مسائل اور مشکلات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔ اب صحت کے شعبے میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس یا مصنوعی ذہانت کے نفاذ کے وقت ان ہی ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔
طبی تاریخ میں بہت کم ایسے ادوار آئے ہیں جنہوں نے ڈاکٹروں اور طبی عملے کے روزمرہ کے معمولات کو اتنا تبدیل کیا ہو جتنا الیکٹرانک میڈیکل ریکارڈز (EMR) کے نفاذ نے کیا۔ ابتدائی طور پر اس ٹیکنالوجی کو صحت کے شعبے میں ایک انقلابی قدم قرار دیا گیا تھا جس کا مقصد مریضوں کا ڈیٹا محفوظ بنانا، کارکردگی میں بہتری لانا اور علاج معالجے کے معیار کو بلند کرنا تھا۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس نظام کے کچھ ایسے تلخ حقائق بھی سامنے آئے جنہوں نے طبی عملے بالخصوص ڈاکٹروں کے لیے کام کا بوجھ بڑھانے کی بجائے اور زیادہ مشکل بنا دیا۔ بہت سے طبی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس نظام کو جس انداز میں نافذ کیا گیا، اس نے مریضوں اور ڈاکٹروں کے براہ راست تعلق کو متاثر کیا کیونکہ ڈاکٹروں کو زیادہ وقت سکرین کے سامنے بیٹھ کر ڈیٹا انٹری میں صرف کرنا پڑتا ہے۔ اب جب کہ صحت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت یعنی AI کا دور شروع ہو چکا ہے اور طبی اداروں میں اس کے تجربات تیزی سے بڑھ رہے ہیں، تو ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ کہیں وہی پرانی غلطیاں دوبارہ نہ دہرائی جائیں۔ EMR کے نفاذ کے دوران جو خامیاں اور انتظامی مشکلات سامنے آئی تھیں، ان کا گہرا مطالعہ کرنا اب وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔ اگر مصنوعی ذہانت کے سسٹمز کو بھی بغیر سوچے سمجھے اور طبی عملے کی حقیقی ضروریات کو مدنظر رکھے بغیر زبردستی نافذ کیا گیا، تو اس سے فائدے کی بجائے الٹا نقصان کا اندیشہ ہے۔ ٹیکنالوجی کمپنیوں اور ہسپتالوں کی انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ آنے والے جدید سسٹمز ڈاکٹروں کے کام کو آسان بنائیں نہ کہ ان کے لیے ذہنی دباؤ اور پیچیدگیوں میں مزید اضافے کا باعث بنیں۔