Technology
واشنگٹن میں کوانٹم ٹیکنالوجی اور وفاقی فنڈنگ کے حصول کی نئی رپورٹ
واشنگٹن ٹیکنالوجی انڈسٹری ایسوسی ایشن اور دیگر اداروں کی نئی رپورٹ میں ریاست کو کوانٹم فنڈنگ حاصل کرنے کا راستہ دکھایا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق واشنگٹن میں کوانٹم اثاثے وافر مقدار میں ہونے کے باوجود اب تک وفاقی فنڈز حاصل نہیں کیے جا سکے ہیں۔
واشنگٹن ٹیکنالوجی انڈسٹری ایسوسی ایشن، نارتھ ویسٹ کوانٹم نیکسس اور اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ آف کامرس کی جانب سے مشترکہ طور پر ایک نئی رپورٹ جاری کی گئی ہے، جس میں ریاست کو کوانٹم ٹیکنالوجی کے شعبے میں درپیش چیلنجز سے نکالنے اور وفاقی فنڈنگ حاصل کرنے کے لیے اہم تجاویز دی گئی ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق، واشنگٹن اسٹیٹ امریکہ بھر میں کوانٹم ٹیکنالوجی کے حوالے سے سب سے مضبوط اور گہرے اثاثے رکھتی ہے، لیکن اس کے باوجود وہ تاحال اس شعبے کے لیے مختص وفاقی فنڈز کا بڑا حصہ حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ریاست کے پاس ٹیکنالوجی اور ماہرین کی کوئی کمی نہیں ہے، تاہم وفاقی سطح پر وسائل کے حصول کے لیے حکمت عملی کو بہتر بنانے کی اشد ضرورت ہے۔
رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ کوانٹم کمپیوٹنگ اور اس سے جڑی دوسری ٹیکنالوجیز آنے والے وقت میں دنیا کا رخ بدل دیں گی۔ واشنگٹن میں تحقیقی ادارے اور یونیورسٹیاں اس میدان میں نمایاں کام کر رہی ہیں، مگر پالیسی کی سطح پر چند خامیوں کی وجہ سے ریاست وفاقی گرانٹس اور فنڈز کا مناسب فائدہ نہیں اٹھا سکی۔ دیگر ریاستیں اس معاملے میں زیادہ تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیں اور وفاقی خزانوں سے اپنے لیے بھاری رقوم حاصل کر رہی ہیں۔ واشنگٹن کے انڈسٹری رہنماؤں نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر ایک مربوط لائحہ عمل تیار کرے تاکہ اس قیمتی موقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
نئی رپورٹ میں حکومت اور نجی شعبے کے مابین اشتراک کار کو مزید بہتر بنانے پر زور دیا گیا ہے تاکہ وفاقی اداروں کے سامنے ریاست کا مقدمہ مضبوطی سے پیش کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ، کوانٹم ریسرچ کے بنیادی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور نئی صنعتوں کو راغب کرنے کے لیے خصوصی مراعات دینے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مصنفین پرامید ہیں کہ اگر ان تجاویز پر سنجیدگی سے عمل درآمد کیا گیا، تو واشنگٹن اسٹیٹ نہ صرف اپنے کھوئے ہوئے مواقع واپس حاصل کر لے گی بلکہ ملک بھر میں کوانٹم ٹیکنالوجی کا سب سے بڑا مرکز بن کر ابھرے گی، جس سے ریاست کی معیشت کو بھی زبردست فروغ ملے گا۔