LIVE
Loading Breaking News...

یوکرین کی روس کے خلاف مزاحمت اور جدید جنگی طریقہ کار

News Image
روس اور یوکرین کے درمیان جاری تنازع نے جدید جنگی حکمت عملی اور دفاعی ٹیکنالوجی کو یکسر تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔ یوکرین نے محدود وسائل کے باوجود عالمی طاقت کے خلاف جس طرح مدافعت کی ہے، اس نے عسکری ماہرین کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔
جب سنہ 2022 میں روس اور یوکرین کے درمیان تنازعہ نے ایک مکمل جنگ کی شکل اختیار کی تو یوکرین کے لیے حالات انتہائی کٹھن دکھائی دے رہے تھے۔ دارالحکومت کیف کو فوری طور پر خطرات کا سامنا تھا اور یہ سوالات اٹھائے جا رہے تھے کہ آیا یہ چھوٹا ملک امریکی اور مغربی تعاون کے باوجود زیادہ دیر تک روس کے سامنے ٹک پائے گا یا نہیں۔ تاہم، یوکرین نے اپنی عسکری اور دفاعی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے نہ صرف اس طوفان کا مقابلہ کیا بلکہ جنگ کے روایتی تصور کو بھی تبدیل کر کے رکھ دیا۔ اس تنازع نے دنیا بھر کے عسکری ماہرین کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ اب مستقبل کی جنگیں کس نہج پر لڑی جائیں گی۔ یوکرین کی اس مزاحمت میں سب سے نمایاں کردار جدید ٹیکنالوجی، خاص طور پر سستے تجارتی ڈرونز اور ڈیجیٹل مواصلاتی نظام نے ادا کیا ہے۔ یوکرین نے روایتی ہتھیاروں پر انحصار کم کرتے ہوئے کم لاگت مگر انتہائی مؤثر خودکار سسٹمز کا استعمال کیا، جس نے روسی فوج کے بھاری ساز و سامان کو شدید نقصان پہنچایا۔ اس طریقہ کار نے ثابت کر دیا کہ اب جنگ میں صرف تعداد یا بھاری عسکری بجٹ ہی سب کچھ نہیں بلکہ ڈیجیٹل برتری اور چوکسی بھی اتنی ہی اہم ہے۔ اس کے علاوہ، جنگ کے میدان میں معلومات کی ترسیل اور مصنوعی ذہانت کے استعمال نے بھی یوکرین کی دفاعی لائن کو مضبوط کیا۔ اطلاعات کی بروقت فراہمی اور سیٹلائٹ سسٹمز کے ذریعے دشمن کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی گئی، جس کی وجہ سے یوکرین نے کئی محاذوں پر برتری حاصل کی۔ عالمی سطح پر دفاعی تجزیہ کار اس بات کا اعتراف کر رہے ہیں کہ یوکرین کا یہ بحران دراصل مستقبل کی جنگوں کا ایک نیا باب ہے، جہاں روایتی جنگی جہازوں اور ٹینکوں کی بجائے ٹیکنالوجی، سافٹ ویئر اور غیر روایتی حربے جنگ کا فیصلہ کریں گے۔ یوکرین کی اس غیر معمولی مزاحمت نے دنیا کے دیگر ممالک کو بھی اپنی دفاعی پالیسیوں پر نظرثانی کرنے پر مجبور کر دیا ہے تاکہ وہ بھی آنے والے وقت کے چیلنجز سے نبرد آزما ہو سکیں۔