LIVE
Loading Breaking News...

ہائیڈروجن کار کا نیا عالمی رفتار ریکارڈ 406 میل فی گھنٹہ

News Image
برطانوی ڈرائیور اینڈی گرین نے جے سی بی ہائیڈرو میکس کار کے ذریعے اتھاہ کے نمکین میدان میں 406.320 میل فی گھنٹہ کی ریکارڈ رفتار حاصل کی۔ یہ گاڑی ہائیڈروجن انٹرنل کمبشن انجن سے لیس ہے جس نے زمین پر تیز رفتاری کا نیا سنگ میل عبور کیا ہے۔
امریکہ کی ریاست اتھاہ کے وسیع و عریض نمکین میدانوں میں برطانوی ڈرائیور اینڈی گرین نے ایک شاندار کارنامہ سر انجام دیتے ہوئے زمین پر تیز رفتاری کا نیا عالمی ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔ انہوں نے خصوصی طور پر ڈیزائن کی گئی جے سی بی ہائیڈرو میکس کار کے ذریعے 406.320 میل فی گھنٹہ یعنی تقریباً 653 کلومیٹر فی گھنٹہ کی حیرت انگیز رفتار حاصل کی۔ اس شاندار کامیابی نے آٹوموبائل اور گرین انرجی کی دنیا میں ایک نئے دور کا آغاز کر دیا ہے، کیونکہ یہ گاڑی روایتی ایندھن کے بجائے ہائیڈروجن ٹیکنالوجی پر کام کرتی ہے۔ اس منفرد اور روشن پیلے رنگ کی ٹیوب نما گاڑی کو دو طاقتور ہائیڈروجن انٹرنل کمبشن انجنوں سے لیس کیا گیا تھا، جنہیں جدید انجینئرنگ کے اصولوں کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ہائیڈروجن کو بطور ایندھن استعمال کرتے ہوئے اس رفتار کو چھونا اس بات کا ثبوت ہے کہ مستقبل کی ٹرانسپورٹیشن میں ماحول دوست توانائی صفر اخراج کے ساتھ بھی ناقابل یقین کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتی ہے۔ اتھاہ کے نمکین میدان طویل عرصے سے رفتار کے بڑے ریکارڈ قائم کرنے کے لیے جانے جاتے ہیں اور اس بار بھی اس نے تاریخ رقم کی ہے۔ ریکارڈ ساز ڈرائیونگ کرنے والے برطانوی ڈرائیور اینڈی گرین اس سے قبل بھی تیز رفتاری کے کئی اعزازات اپنے نام کر چکے ہیں، تاہم ہائیڈروجن گاڑی کے ذریعے یہ کامیابی ان کے کیریئر کا ایک اور روشن باب ہے۔ اس پروجیکٹ سے وابستہ انجینئرز اور تکنیکی ماہرین نے دن رات محنت کر کے گاڑی کے ایروڈائنامکس اور انجن کی کارکردگی کو بہتر بنایا تاکہ انتہائی زیادہ رفتار پر بھی گاڑی مکمل طور پر محفوظ اور کنٹرول میں رہے۔ اس تاریخی کامیابی کے بعد دنیا بھر میں ہائیڈروجن سے چلنے والی گاڑیوں کی تحقیق اور ترقی میں مزید تیزی آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔ ماہرینِ اقتصادیات اور آٹوموبائل انڈسٹری کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے عام سڑکوں پر چلنے والی گاڑیوں کے لیے بھی ہائیڈروجن ٹیکنالوجی کو اپنانے کی راہیں ہموار ہوں گی۔ عالمی سطح پر کاربن کے اخراج کو کم کرنے کے لیے یہ ٹیکنالوجی ایک گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہے۔