World
سابق چینی وزیراعظم ژو رونگجی 97 برس کی عمر میں انتقال کر گئے
چین کے سابق وزیراعظم اور ملک کو جدید معاشی دور میں داخل کرنے والے اہم رہنما ژو رونگجی 97 برس کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔ انہیں چین کی معیشت کو عالمی منڈی سے جوڑنے اور ایک بڑی تجارتی طاقت بنانے کا معمار مانا جاتا ہے۔
چین کے سابق وزیراعظم اور ملک کو جدید معاشی دور میں داخل کرنے والے معروف رہنما ژو رونگجی 97 برس کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا کے مطابق وہ طویل عرصے سے علالت کا شکار تھے اور ان کی وفات پر چینی سیاسی اور معاشی حلقوں میں گہرے دکھ کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ژو رونگجی کو چین کا 'معاشی زار' کہا جاتا تھا جنہوں نے 1990 کی دہائی کے اواخر اور 2000 کی دہائی کے اوائل میں چینی معیشت کو بدلنے میں انتہائی کلیدی کردار ادا کیا۔ انہوں نے سخت معاشی اصلاحات نافذ کیں اور سرکاری اداروں کی تنظیم نو کی جس کی بدولت چین عالمی تجارت کا ایک بہت بڑا مرکز بننے میں کامیاب ہوا۔ ان کے دورِ حکومت میں ہی چین ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (WTO) کا رکن بنا، جو ملک کی معاشی تاریخ کا ایک بڑا سنگِ میل ثابت ہوا۔ ژو رونگجی کی جرأت مندانہ پالیسیوں اور معاشی بصیرت نے چین کو دنیا کی دوسری بڑی معیشت بننے کی بنیاد فراہم کی۔ ماہرین کے مطابق، ان کے دور میں کیے گئے فیصلوں نے لاکھوں افراد کو غربت سے نکالا اور ملک کے تجارتی ڈھانچے کو جدید ترین تقاضوں سے ہم آہنگ کیا۔ ان کا شمار چین کے ان رہنماؤں میں ہوتا ہے جنہوں نے ملک کو دنیا کے لیے کھولا اور عالمی سرمایہ کاری کو فروغ دیا۔ ژو رونگجی کی وفات کے بعد دنیا بھر سے رہنماؤں کی طرف سے تعزیتی پیغامات کا سلسلہ جاری ہے اور ان کی معاشی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔ ان کا انتقال چین کی جدید سیاسی اور معاشی تاریخ کے ایک اہم باب کا اختتام ہے۔