World
کانگو ایبولا وبا: عالمی ادارہ صحت کی خطرناک ترین ہونے کی تنبیہ
عالمی ادارہ صحت کے سربراہ کا کہنا ہے کہ جمہوری جمہوریہ کانگو میں جاری ایبولا کی موجودہ وبا اگر اسی رفتار سے پھیلتی رہی تو یہ 2014 سے 2016 کے دوران مغربی افریقہ میں پھیلنے والی ہلاکت خیز وبا کو بھی پیچھے چھوڑ دے گی۔ ڈبلیو ایچ او نے اس سنگین صورتحال سے نمٹنے کے لیے فوری بین الاقوامی اقدامات اور امداد کی اپیل کی ہے۔
جنیوا: عالمی ادارہ صحت (WHO) کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ جمہوری جمہوریہ کانگو (DR Congo) میں جاری ایبولا کی موجودہ وبا انتہائی خطرناک صورتحال اختیار کرتی جا رہی ہے اور اگر اس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو یہ ماضی کی تمام وباؤں کو پیچھے چھوڑ دے گی۔ ادارے کے مطابق یہ موجودہ وبا 2014 سے 2016 کے دوران مغربی افریقہ میں تباہی مچانے والی تاریخ کی بدترین ایبولا وبا کو بھی مات دے سکتی ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں وائرس کی منتقلی کی شرح اور متاثرہ افراد کی تعداد میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ طبی عملے کو فیلڈ میں کام کرنے کے دوران شدید چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں سکیورٹی کے مسائل اور طبی سہولیات کی کمی سرفہرست ہیں۔ بین الاقوامی برادری سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس بحران سے نمٹنے کے لیے فوری طور پر مالی اور طبی وسائل فراہم کریں تاکہ وائرس کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔
ماہرین صحت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ مقامی آبادی میں اس بیماری سے بچاؤ سے متعلق آگاہی پھیلانا اور ویکسینیشن مہم کو تیز کرنا اس وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ وبا نہ صرف کانگو بلکہ خطے کے دیگر ممالک کے لیے بھی ایک بڑا انسانی المیہ بن سکتی ہے۔ ڈبلیو ایچ او صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے اور مقامی حکومتوں کے ساتھ مل کر ہنگامی بنیادوں پر لائحہ عمل تیار کر رہا ہے۔