Pakistan
پاکستان کا بحری اتحاد پر عملدرآمد کا عزم، تین ملاحوں کی ہلاکت کی تصدیق
ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کہا ہے کہ سعودی عرب کی زیر قیادت بحری دفاعی اتحاد کے تحت پاکستان اپنے وعدوں کو پوری سنجیدگی اور تنہی سے نافذ کرے گا۔ یہ بیان حوثی حملوں میں تین پاکستانی ملاحوں کی ہلاکت کے بعد سامنے آیا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے بدھ کے روز ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران واضح کیا کہ پاکستان کثیر القومی بحری دفاعی اتحاد کے مشترکہ اعلامیے کا دستخط کنندہ ہے اور وہ بحیرہ احمر کے خطے میں جہاز رانی اور توانائی کی سپلائی لائنوں کے تحفظ کے لیے کیے گئے اپنے وعدوں کو پوری تنہی اور سنجیدگی سے نافذ کرے گا۔ یہ اہم بیان حوثی حملوں کے نتیجے میں تین پاکستانی ملاحوں کے جاں بحق ہونے کے فورا بعد سامنے آیا ہے۔ گزشتہ ماہ ریاض نے بحیرہ احمر کے خطے میں تجارتی جہازوں اور توانائی کے راستوں کے تحفظ کے لیے ایک کثیر القومی بحری دفاعی اتحاد بنانے کا اعلان کیا تھا جس پر پاکستان، ترکی اور مصر سمیت چودہ ممالک نے دستخط کیے تھے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے مزید بتایا کہ ڈپٹی وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی ہدایات کے مطابق پاکستان اس معاہدے کی تمام تفصیلات کا جائزہ لے رہا ہے اور اس سلسلے میں سعودی حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔ پریس بریفنگ کے دوران وزیر داخلہ محسن نقوی کے دورہ ایران کے حوالے سے بھی گفتگو کی گئی، جہاں وہ دوطرفہ تعلقات، سیکیورٹی کے امور اور خطے میں امن و استحکام پر اعلیٰ سطحی ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ اس دورے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعاون کو فروغ دینا اور خطے میں امن کے لیے تعمیری اقدامات پر تبادلہ خیال کرنا ہے۔
خطے میں امن و امان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ترجمان نے امریکہ اور ایران کے درمیان مصالحتی کوششوں کا ذکر کیا اور کہا کہ پاکستان برادر ممالک کے ساتھ مل کر بحران کے پرامن حل کے لیے مخلصانہ کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ اسلام آباد مفاہمت نامے کے تحت فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ خطے میں پائیدار امن کی راہ ہموار کی جا سکے اور کسی بھی قسم کے تنازع کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جا سکے۔
اس کے علاوہ ترجمان دفتر خارجہ نے گزشتہ ہفتے پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان مکہ مکرمہ میں طے پانے والے دفاعی معاہدے کو ہفتے کا سب سے اہم واقعہ قرار دیا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ یہ مشترکہ دفاعی معاہدہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے اور اس کا مقصد رکن ممالک کی اجتماعی سلامتی کو مضبوط بنانا ہے۔ یہ معاہدہ اس بات کا غماز ہے کہ تینوں ممالک خطے اور اس سے باہر امن اور استحکام کے لیے مشترکہ سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا کرنے کا پختہ عزم رکھتے ہیں۔