LIVE
Loading Breaking News...

حلقہ ایل اے 17 حویلی انتخاب تنازع اور مسلم لیگ ن کی ہڑتال

News Image
آزاد کشمیر کے حلقہ ایل اے 17 حویلی سے پیپلز پارٹی کے فیصل ممتاز راٹھور کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے۔ مسلم لیگ ن کے امیدوار نے نتائج میں مبینہ ردوبدل کے خلاف غیر معینہ مدت تک شٹر ڈاؤن ہڑتال اور احتجاج کا اعلان کیا ہے۔
مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر کے حلقہ ایل اے 17 حویلی کے انتخابی نتائج پر تنازع شدت اختیار کر گیا ہے، جہاں ریٹرننگ افسر کی جانب سے فارم 27 جاری کیے جانے کے بعد پیپلز پارٹی کے رہنما اور وزیرِ اعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور کو فاتح قرار دیا گیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد حلقے میں شدید کشیدگی پھیل گئی ہے اور مسلم لیگ ن کے کارکنوں نے فارورڈ کہوٹہ میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال اور غیر معینہ مدت کے لیے احتجاج کا اعلان کر دیا ہے۔ مسلم لیگ ن کے امیدوار انجینئر محسن عزیز کو اس سے قبل یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ الیکشن کمیشن میں شکایت کی سماعت تک فارم جاری نہیں کیا جائے گا، لیکن اس کے باوجود آدھی رات کے بعد نتائج کا اعلان کر دیا گیا۔ فارورڈ کہوٹہ میں مسلم لیگ ن کے ضلعی صدر سید عابد بخاری کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں شرکاء نے مطالبہ کیا کہ الیکشن کمیشن حلقہ ایل اے 17 کے تمام پولنگ بیگز کھول کر ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا حکم دے۔ انہوں نے پریسائیڈنگ افسران کی جانب سے جاری کردہ اصل نتائج کی بنیاد پر حتمی فیصلہ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر ان کے مطالبات پورے نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ کار مزید وسیع کر دیا جائے گا۔ دوسری جانب، پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور دیگر رہنماؤں نے اس فتح کو عوام کی کامیابی قرار دیا ہے جبکہ وزیرِ اعظم فیصل ممتاز راٹھور نے اپنی جیت کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری ہونے پر پارٹی قیادت اور عوام کا شکریہ ادا کیا ہے۔ مسلم لیگ ن کے امیدوار محسن عزیز نے الزام عائد کیا ہے کہ فارم 24 کے مطابق وہ اپنے حریف سے آٹھ ہزار سے زائد ووٹوں سے آگے تھے، لیکن بعد میں نتائج میں ردوبدل کر کے ان کی شکست کو فتح میں بدلا گیا۔ انہوں نے چیلنج کیا کہ اگر نتائج درست ہیں تو پولنگ بیگز کھولنے سے کیوں گریز کیا جا رہا ہے۔ اس معاملے پر سینئر وکلاء کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر کو باضابطہ درخواست بھی جمع کرا دی گئی ہے جس میں دھاندلی کے الزامات کی تحقیقات اور ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے اس معاملے پر جمعرات کے روز باضابطہ سماعت کرنے کا اعلان کیا ہے۔ دریں اثنا، پیپلز پارٹی نے بھی آزاد کشمیر بھر میں ہونے والے حالیہ انتخابات کے طرزِ عمل پر سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ اسلام آباد میں پارٹی کی اعلیٰ سطح کے اجلاس کے دوران انتخابات کو پُرتشدد اور متنازع قرار دیا گیا، جبکہ الیکشن کمیشن کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔ مسلم لیگ ن اور دیگر جماعتوں کے رہنماؤں نے امید ظاہر کی ہے کہ الیکشن کمیشن اس تنازع کا میرٹ پر حل نکالے گا تاکہ حویلی کے عوام کے بنیادی جمہوری حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔