LIVE
Loading Breaking News...

چین کے سابق وزیراعظم ژو رونگجی کا انتقال، معاشی اصلاحات کا اہم باب بند

News Image
چین کے سابق وزیراعظم ژو رونگجی 97 برس کی عمر میں بیجنگ میں انتقال کر گئے ہیں۔ انہوں نے اپنے دور حکومت میں چین میں معاشی اصلاحات اور آزاد مارکیٹ کی پالیسیوں کو فروغ دیا تھا۔
چین کے سابق وزیراعظم ژو رونگجی، جن کی آزادانہ معاشی اصلاحات نے ملک کی غیر معمولی معاشی ترقی میں بنیادی کردار ادا کیا تھا، 97 برس کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔ سرکاری خبر رساں ادارے ژنہوا کے مطابق وہ بدھ کی صبح بیجنگ میں بیماری کے باعث چل بسے اور طبی علاج کے باوجود جانبر نہ ہو سکے۔ وہ 1998 میں چین کے وزیراعظم بنے تھے اور انہوں نے اپنے دور میں سخت گیر آزاد مارکیٹ اصلاحات نافذ کرنے میں شہرت حاصل کی۔ ژو رونگجی کی مشہور اصلاحات میں منافع بخش نہ ہونے والے سرکاری اداروں کی نجکاری، شہری رہائش کی نجکاری اور گھروں کی ملکیت کو فروغ دینا شامل تھا۔ ان کی اصلاحات کے نتیجے میں رئیل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے میں ایک زبردست تیزی آئی، جو بعد میں چینی معیشت کا ایک چوتھائی حصہ بن گیا۔ ان کی قیادت کو اس بات کا سہرا بھی جاتا ہے کہ انہوں نے چین کو 1997 کے ایشیائی مالیاتی بحران کے بدترین اثرات سے بچایا۔ اس کے علاوہ انہوں نے 2001 میں چین کے عالمی تجارتی ادارے یعنی ڈبلیو ٹی او میں شمولیت کے لیے ہونے والے مذاکرات کی بھی قیادت کی، جسے ماؤ زے تنگ کے دور کے الگ تھلگ معیشت سے نکال کر دنیا کی منڈی بنانے کی سمت ایک فیصلہ کن قدم سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے بھی ژو رونگجی کے انتقال پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اپنے ایک تعزیتی پیغام میں صدر شی جن پنگ، چینی قیادت اور سوگوار خاندان سے تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ ژو رونگجی ایک عظیم رہنما اور پاکستان کے اچھے دوست تھے۔ چینی کمیونسٹ پارٹی کے اعلیٰ اداروں کی طرف سے جاری کردہ مشترکہ اعلامیے میں انہیں ایک شاندار رہنما اور پارٹی کا وفادار سپاہی قرار دیا گیا ہے۔ ژو رونگجی کے انتقال کی خبر سوشل میڈیا بالخصوص ویبو پر چند ہی گھنٹوں میں ٹاپ ٹرینڈ بن گئی، جہاں کروڑوں افراد نے ان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔