Technology
اوپن اے آئی کے دفتر کے باہر طلبہ کا احتجاج، درجنوں گرفتار
مصنوعی ذہانت کی صنعت کے خلاف اور ضابطہ اخلاق کی عدم موجودگی پر طلبہ نے اوپن اے آئی کے لبی آفس کے باہر شدید احتجاج کیا۔ اس احتجاج کے دوران درجنوں طلبہ کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے کیونکہ یہ صنعت مڈٹرم انتخابات میں کروڑوں ڈالر خرچ کر رہی ہے۔
امریکہ میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی صنعت کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ اور ضابطہ اخلاق کی کمی کے خلاف طلبہ سراپا احتجاج ہیں۔ حالیہ دنوں میں درجنوں طلبہ نے اوپن اے آئی کے لبی آفس کے باہر زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا، جس دوران صورتحال کشیدہ ہونے پر پولیس نے کئی طلبہ کو گرفتار بھی کر لیا۔ مظاہرین کا نعرہ تھا کہ 'ہمارا مستقبل چرانا بند کرو' کیونکہ وہ بڑی ٹیک کمپنیوں کی جانب سے ٹیکنالوجی کے ممکنہ نقصانات اور انسانی زندگیوں پر پڑنے والے برے اثرات کے حوالے سے سخت فکرمند ہیں۔ یہ احتجاج ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مصنوعی ذہانت کی حامی ایک بڑی سیاسی کمیٹی 'لیڈنگ دی ফیوچر' مڈٹرم انتخابات پر کروڑوں ڈالر خرچ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے، تاکہ صنعت کو کسی بھی قسم کے سخت ضابطوں یا سرکاری نگرانی سے بچایا جا سکے۔ ٹیک کمپنیوں کا یہ رویہ سول سوسائٹی اور نوجوان نسل میں شدید تشویش کا باعث بن رہا ہے، جو یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ اے آئی کی ترقی کے ساتھ ساتھ اس کے اخلاقی پہلوؤں اور احتساب کو بھی یقینی بنایا جائے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ آنے والے دنوں میں مصنوعی ذہانت کی ریگولیشن کا معاملہ مزید شدت اختیار کر سکتا ہے، کیونکہ طلبہ اور سماجی تنظیمیں اس کے خلاف عالمی سطح پر آواز اٹھا رہی ہیں۔