LIVE
Loading Breaking News...

آئی ٹی سیکٹر میں ملازمتیں کم ہوں گی، مالی سال 2027 کی رپورٹ

News Image
رپورٹ کے مطابق بھارت کے آئی ٹی اور بی پی ایم سیکٹر میں مالی سال 2027 کے آغاز پر ملازمین کی بھرتی میں نمایاں کمی متوقع ہے۔ کمپنیاں مصنوعی ذہانت پر مبنی پیداواری صلاحیت اور لچکدار ٹیلنٹ ماڈلز پر زیادہ توجہ دے رہی ہیں۔
بھارت کے آئی ٹی اور بی پی ایم (آئی ٹی-بی پی ایم) سیکٹر میں مالی سال 2027 کے پہلے نصف کے دوران ملازمتوں کی فراہمی میں نمایاں سست روی کا سامنا کرنے کا امکان ہے۔ ایک نئی صنعت رپورٹ کے مطابق، خالص افرادی قوت کے اضافے میں گزشتہ سال کے مقابلے میں چھبیس فیصد سے زائد کی کمی متوقع ہے، جو کہ صنعت کے لیے ایک اہم تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے۔ اس متوقع کمی کی بنیادی وجہ کمپنیوں کی جانب سے مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی پیداواری صلاحیت اور لچکدار ٹیلنٹ ماڈلز کی طرف منتقلی ہے۔ جدید تکنیکی آلات اور اے آئی کے بڑھتے ہوئے استعمال کی وجہ سے روایتی نوکریوں کی مانگ میں کمی واقع ہو رہی ہے، کیونکہ کمپنیاں کم عملے کے ساتھ زیادہ کارکردگی حاصل کرنے پر زور دے رہی ہیں۔ عالمی سطح پر کیپٹو یونٹس اور آؤٹ سورسنگ کمپنیاں بھی اپنے کاروباری ماڈلز کا از سر نو جائزہ لے رہی ہیں۔ اس تبدیلی سے نوکری کے متلاشی نئے گریجویٹس اور تجربہ کار پیشہ ور افراد دونوں کے لیے چیلنجز بڑھ سکتے ہیں، کیونکہ اب روایتی آئی ٹی سویلز کے بجائے جدید تکنیکی مہارتوں کے حامل افراد کی ضرورت زیادہ محسوس کی جا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ روایتی بھرتیوں میں کمی آ رہی ہے، تاہم مصنوعی ذہانت، ڈیٹا سائنس اور کلاउड کمپیوٹنگ کے شعبوں میں ہنر مند افراد کے لیے نئے مواقع بھی پیدا ہو رہے ہیں۔ آنے والے مہینوں میں آئی ٹی کمپنیوں کی حکمت عملی اس بات کا تعین کرے گی کہ وہ افرادی قوت کے اس بحران سے کیسے نبردآزما ہوتی ہیں۔