World
سینیکا کا مشہور قول: خوف مشکلات کو کیسے بڑھاتا ہے اور حوصلہ کیسے کامیابی دیتا ہے
قدیم رومی فلسفی سینیکا کا یہ قول انسانی فطرت اور خوف کے نفسیاتی اثرات پر گہری روشنی ڈالتا ہے۔ یہ فلسفیانہ نکتہ سکھاتا ہے کہ کس طرح پہلا قدم اٹھانے سے بڑے اور کٹھن چیلنجز بھی آسان ہو جاتے ہیں۔
قدیم دور کے مشہور رومی فلسفی سینیکا کا ایک نہایت ہی معروف اور فکر انگیز قول انسانی نفسیات اور عزم کی پختگی پر گہری روشنی ڈالتا ہے۔ سینیکا کا کہنا ہے کہ چیزیں اس لیے مشکل نہیں ہوتیں کہ ہم انہیں کرنے کی جرات نہیں کرتے، بلکہ حقیقت میں وہ اس لیے مشکل بن جاتی ہیں کیونکہ ہم انہیں کرنے کی جرات نہیں لاتے۔ یہ قول اس بات کو واضح کرتا ہے کہ انسانی خوف اور ہچکچاہٹ اکثر و بیشتر عام حالات کو بھی ایک ناقابلِ تسخیر پہاڑ کی طرح مشکل بنا دیتے ہیں۔
فلسفہِ stoicism کے عظیم مفکرین میں شمار ہونے والے سینیکا کے مطابق انسان کا سب سے بڑا دشمن اس کا اپنا ذہنی خوف ہوتا ہے۔ جب کوئی شخص کسی مشکل کام کو دیکھ کر پہلے ہی قدم پر پیچھے ہٹ جاتا ہے، تو اس کا تخیل اس کام کو اتنا بڑا بنا دیتا ہے جتنا وہ حقیقت میں ہوتا ہی نہیں۔ زندگی میں ترقی اور کامیابی کے لیے یہ ضروری ہے کہ انسان خوف کے حصار کو توڑے اور عملی اقدام اٹھائے۔ جب پہلا قدم اٹھایا جاتا ہے تو راہ کی بہت سی رکاوٹیں خود بخود دور ہو جاتی ہیں۔
موجودہ دور کی تیز رفتار اور دباؤ سے بھرپور زندگی میں اس قدیم فلسفے کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے۔ آج کے انسان کو ہر موڑ پر مختلف چیلنجز اور مسابقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے میں سینیکا کا یہ درس امید کی ایک کرن فراہم کرتا ہے کہ اگر ہم اپنے خوف پر قابو پا لیں اور مصائب کا سامنا کرنے کی جرات پیدا کریں، تو ناممکن نظر آنے والے اہداف بھی ممکن ہو سکتے ہیں۔
اس لیے زندگی کے کسی بھی شعبے میں، چاہے وہ کیریئر ہو، تعلیم ہو یا ذاتی ترقی، اگر آپ کسی بڑے ہدف کو حاصل کرنے سے ڈر رہے ہیں، تو یاد رکھیے کہ رکاوٹ کام کی نوعیت میں نہیں بلکہ آپ کے اندرونی خوف میں ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ خوف کو پسِ پشت ڈال کر آگے بڑھا جائے کیونکہ اصل کامیابی صرف جرات مندانہ اقدامات میں ہی پوشیدہ ہے۔