LIVE
Loading Breaking News...

ٹرمپ کے خفیہ دورے پر کابینہ کے ارکان کا دھوکہ دینے والے طیارے میں سفر

News Image
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خفیہ دورے کے دوران ان کی کابینہ کے ارکان نے ایک اور فریب دینے والے طیارے میں سفر کیا۔ اس غیر معمولی سکیورٹی اقدام کا مقصد سیکورٹی خدشات کے پیش نظر دورے کی حفاظت کو یقینی بنانا تھا۔
امریکی سیاست اور سکیورٹی کے حوالے سے ایک انتہائی دلچسپ اور اہم انکشاف سامنے آیا ہے جس کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک خفیہ دورے اور خاموش روانگی کے بعد، ان کی کابینہ کے اہم ارکان ایک ایسے طیارے میں سوار رہے جسے خاص طور پر ایک دھوکہ یا ڈیکائے (Decoy) کے طور پر استعمال کیا گیا تھا۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ غیر معمولی قدم انتہائی رازداری اور حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے اٹھایا گیا تھا تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹا جا سکے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے اس خفیہ فضائی سفر کے دوران چند قریبی ذاتی معاونین بھی ان کے ساتھ موجود تھے، جبکہ اصل سفر کے راستے اور طریقہ کار کو مکمل طور پر خفیہ رکھا گیا۔ اس حکمت عملی کا مقصد ممکنہ سکیورٹی خطرات اور غیر یقینی صورتحال سے بچنا تھا، جس کے تحت صدر اور ان کے قریبی رفقاء نے ایک طیارے کا استعمال کیا جبکہ کابینہ کے دیگر اراکین کو دوسرے طیارے میں رکھا گیا۔ اس واقعے نے سکیورٹی پروٹوکول اور صدارتی دوروں کے انتظامات کے حوالے سے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس قسم کے اقدامات اعلیٰ شخصیات کی جان کی حفاظت کے لیے بین الاقوامی سطح پر اٹھائے جاتے ہیں تاکہ دشمن یا مخالفین کو اصل مقام یا نقل و حرکت کے بارے میں بروقت درست معلومات نہ مل سکیں۔ اس دورے اور اس کے دوران اختیار کیے گئے حفاظتی اقدامات نے ایک بار پھر صدارتی سطح کی سکیورٹی کی پیچیدگیوں کو اجاگر کیا ہے۔ حکام کی جانب سے اس معاملے پر مزید تفصیلات فراہم کی گئی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ جدید دور میں خفیہ سفر کی حکمت عملی کتنی اہمیت اختیار کر چکی ہے۔