Politics
ٹرمپ کی زیلنسکی اور نیتن یاہو سے ملاقات، یوکرین و ایران جنگ پر غور
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین اور مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے دوران اہم عالمی رہنماؤں سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے ساتھ ان ملاقاتوں کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آئندہ دنوں میں یوکرین اور مشرق وسطیٰ کے تنازعات کے تناظر میں اہم عالمی رہنماؤں کی میزبانی کرنے جا رہے ہیں۔ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ یہ ملاقاتیں ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب یوکرین اور ایران سے متعلق جنگی صورتحال انتہائی حساس اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق ان مذاکرات کا مقصد علاقائی سکیورٹی اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تبادلہ خیال کرنا ہے۔ذرائع کے مطابق یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی وائٹ ہاؤس کے دورے کے دوران روس کے خلاف جنگ کے لیے مزید امریکی فوجی امداد، بیلسٹک میزائل ڈیفنس سسٹمز اور سٹریٹجک تعاون کے حصول پر زور دیں گے۔ یوکرین کو اس وقت روسی حملوں کے دفاع کے لیے جدید دفاعی آلات کی اشد ضرورت ہے، اور زیلنسکی کی امریکی قیادت سے یہ ملاقات اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔ اس دورے کا مقصد واشنگٹن سے حمایت کو مزید مضبوط بنانا اور یوکرین کے دفاعی حصار کو ناقابل تسخیر بنانا ہے۔دوسری جانب مشرق وسطیٰ بالخصوص ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور تنازعات بھی عالمی سطح پر گہری تشویش کا باعث بنے ہوئے ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی امریکی قیادت سے ملاقات میں خطے کی موجودہ سکیورٹی صورتحال اور ایران کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے تدارک پر تفصیلی بات چیت متوقع ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ بیک وقت ہونے والی ملاقاتیں عالمی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کریں گی کیونکہ واشنگٹن ایک ہی وقت میں دو بڑے اور اہم محاذوں پر سفارتی اور عسکری حکمت عملی طے کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔