LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ میں سی پی آئی رپورٹ سے پہلے ڈالر کا ملا جلا رجحان

News Image
امریکہ میں جولائی کے ماہانہ سی پی آئی (CPI) کے اعداد و شمار جاری ہونے سے پہلے عالمی منڈی میں امریکی ڈالر کی قدر میں ملا جلا رجحان ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ سرمایہ کار فیڈرل ریزرو کے آئندہ اقدامات کے بارے میں مزید اشارے تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
واشنگٹن (نیکسورا نیوز اردو) امریکہ میں جولائی کے مہنگائی کے تازہ ترین اعداد و شمار یعنی صارفین کی قیمتوں کے اشاریہ (CPI) کے اجراء سے قبل عالمی کرنسی مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی قدر میں ملا جلا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔ سرمایہ کار اور معاشی تجزیہ کار اس اہم رپورٹ کے منتظر ہیں تاکہ امریکی مرکزی بینک یعنی فیڈرل ریزرو کی آئندہ مانیٹری پالیسی اور شرح سود کے حوالے سے کوئی واضح سمت مل سکے۔ اس صورتحال نے فاریکس مارکیٹ میں ایک محتاط فضا پیدا کر دی ہے جہاں ٹریڈرز کسی بھی بڑے فیصلے سے گریزاں ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مشرق وسطیٰ میں خاص طور پر ایران سے متعلق بڑھتے ہوئے سیاسی تناؤ اور جغرافیائی خطرات نے بھی کرنسی مارکیٹوں کو متاثر کیا ہے۔ بعض سیکٹرز میں محفوظ سرمایہ کاری کے رجحان کی وجہ سے ڈالر کی قیمت میں ہلکا سا اضافہ بھی ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ دیگر کرنسیوں کے مقابلے میں یہ دباؤ کا بھی شکار ہے۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر جولائی کے یہ اعداد و شمار توقعات سے زیادہ گرم یا کمزور آتے ہیں، تو اس کا براہ راست اثر فیڈرل ریزرو کے ستمبر میں ہونے والے پالیسی اجلاس پر پڑے گا۔ اس کے علاوہ، مختلف مالیاتی اداروں جیسے براؤن برادرز ہیرمین (BBH) اور دیگر نے اپنے نوٹس میں خبردار کیا ہے کہ مہنگائی کے خطرات اور فیڈ کی قیمتوں کا تعین (Fed pricing) مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کی بڑی وجوہات بن سکتے ہیں۔ سرمایہ کار اب پوری طرح سے اس بات پر نظر رکھے ہوئے ہیں کہ آیا امریکہ میں مہنگائی کی رفتار میں کمی واقع ہو رہی ہے یا نہیں، کیونکہ اس سے یہ طے ہوگا کہ ڈالر کی آنے والے دنوں میں کیا سمت ہوگی۔