Technology
لائسنس پلیٹ ریڈرز اور موبائل ٹریکنگ: جدید نگرانی کا خطرہ
جدید نگرانی کی ٹیکنالوجی نے لائسنس پلیٹ ریڈرز کو اس قابل بنا دیا ہے کہ وہ گاڑیوں کے ساتھ ساتھ ان میں موجود موبائل فونز کے سگنلز کو بھی ٹریک کر سکیں۔ ماہرین نے اس نئی ٹیکنالوجی کے نفاذ پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے شہریوں کی ذاتی زندگی میں مداخلت قرار دیا ہے۔
حالیہ برسوں میں دنیا بھر میں سیکیورٹی اور ٹریفک کنٹرول کے نام پر متعدد جدید ٹیکنالوجیز متعارف کروائی گئی ہیں، جن میں لائسنس پلیٹ ریڈرز (ALPR) سرفہرست ہیں۔ تاہم اب ان کیمروں اور سسٹمز کی صلاحیتوں میں خطرناک حد تک اضافہ کر دیا گیا ہے۔ تصور کریں کہ آپ روزانہ اپنے کسی ساتھی کے ساتھ ایک ہی گاڑی میں دفتر جاتے ہیں۔ جب یہ گاڑی کسی لائسنس پلیٹ ریڈر کے پاس سے گزرتی ہے، تو کیمرہ نہ صرف گاڑی کی تصویر محفوظ کرتا ہے بلکہ گاڑی کے رجسٹرڈ مالک کے ریکارڈ سے بھی اس کا سراغ لگا لیتا ہے۔ لیکن اب صورتحال مزید تشویشناک ہو چکی ہے۔
نئے نظام میں گاڑیوں کو اسکین کرنے والے ان کیمروں کے ساتھ اب ایسے جدید سنسرز بھی نصب کیے جا رہے ہیں جو گاڑی کے اندر موجود موبائل فونز کے وائرلیس سگنلز کو بھی پکڑ سکتے ہیں۔ یہ سنسرز فون کی منفرد ڈیجیٹل شناخت اور سگنلز کو اسکین کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب نظام صرف یہ نہیں جانتا کہ سڑک پر کون سی گاڑی گزر رہی ہے، بلکہ وہ یہ بھی جان سکتا ہے کہ اس کے اندر کون کون سے افراد سوار ہیں، بشرطیکہ ان کے پاس موبائل فونز موجود ہوں۔
اس نئی پیش رفت نے دنیا بھر کے ماہرینِ قانون، شہریوں کے حقوق کے علمبرداروں اور پرائیویسی کے محافظوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کی نگرانی براہ راست شہریوں کی ذاتی زندگی اور رازداری پر حملہ ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے استعمال سے حکومتیں اور نجی ادارے بغیر کسی وارنٹ یا معقول وجہ کے شہریوں کی نقل و حرکت کا تفصیلی ریکارڈ اکٹھا کر سکتے ہیں، جو مستقبل میں جمہوریت اور بنیادی انسانی حقوق کے لیے ایک بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔
ڈیجیٹل رائٹس کے کارکنوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس قسم کی غیر اعلانیہ اور جارحانہ نگرانی کی ٹیکنالوجی کے استعمال پر سخت پابندیاں عائد کی جائیں۔ اگرچہ حکام کا مؤقف ہمیشہ کی طرح یہی ہوتا ہے کہ یہ اقدامات ملکی سیکیورٹی اور جرائم کی روک تھام کے لیے اٹھائے جا رہے ہیں، لیکن عام شہریوں کے بنیادی حقوق اور ذاتی آزادی کا تحفظ بھی اتنا ہی اہم ہے۔ آنے والے دنوں میں اس ٹیکنالوجی کے خلاف قانونی چارہ جوئی اور عوامی سطح پر احتجاجی تحریکیں دیکھنے میں آ سکتی ہیں۔