LIVE
Loading Breaking News...

ایران کا آبنائے ہرمز پر کنٹرول اور امریکہ سے مذاکرات کی تردید

News Image
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول رکھتے ہیں اور امریکہ کے ساتھ کسی مذاکرات میں حصہ نہیں لے رہے۔ تہران کے مطابق وہ جنگ اور امن کے فیصلے خود کریں گے اور کسی بیرونی طاقت کو اجازت نہیں دی جائے گی۔
تہران: ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز پر ان کا مکمل کنٹرول بدستور قائم ہے اور وہ اسٹریٹجک اہمیت کے حامل اس خطے میں کسی بھی غیر ملکی مداخلت کو برداشت نہیں کریں گے۔ ایرانی ترجمان نے اپنے ایک بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ایران اپنے فیصلے خود کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور وہ امریکہ یا کسی اور ملک کو جنگ اور امن کا وقت طے کرنے کی اجازت ہرگز نہیں دے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ تہران نے علاقائی سلامتی اور استحکام کے لیے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعاون پر زور دیا ہے تاکہ خطے میں پائیدار امن کو یقینی بنایا جا سکے۔ دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے ڈپٹی اسپیکر نے بھی اپنے ایک سخت بیان میں کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے فہم یا مفاہمت تک پہنچنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ آبنائے ہرمز ایران کی طاقت کا مرکز اور استعارہ ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس اہم آبی گزرگاہ کی سیکیورٹی ایران کی اولین ترجیح ہے اور اس پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ دریں اثنا، بین الاقوامی میڈیا اور سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ کچھ ثالث ممالک کی جانب سے امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ پیش رفت کے اشارے دیے جا رہے ہیں۔ تاہم، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حوالے سے اطلاعات ہیں کہ وہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتنیاہو کے ساتھ ملاقات کے بعد ہی اس حساس معاملے پر کوئی حتمی فیصلہ کرنے کے منتظر ہیں۔ مبصرین کا خیال ہے کہ خطے میں موجود کشیدگی کے تناظر میں امریکہ اور ایران کے مابین تعلقات انتہائی نازک موڑ پر پہنچ چکے ہیں، جہاں دونوں طرف سے سخت بیانات کا سلسلہ جاری ہے۔