LIVE
Loading Breaking News...

ڈونلڈ ٹرمپ نے صدارتی عملے اور سیکرٹ سروس کو نظر انداز کر دیا

News Image
برسلز میں نیٹو سربراہی اجلاس کے بعد، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر پرواز کے دوران اپنے قریبی عملے، سیکرٹ سروس اور میڈیا کو پیچھے چھوڑنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ سیاسی مبصرین نے اس اقدام کو انتہائی غیر ذمہ دارانہ قرار دیا ہے۔
واشنگٹن: نیٹو کے ایک اہم سربراہی اجلاس کے اختتام پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مبینہ طور پر اپنے قریبی عملے، سیکرٹ سروس کے ارکان اور میڈیا کے نمائندوں کو ائیر فورس ون پرواز کے دوران مشکلات میں چھوڑنے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔ اس واقعے کے بعد سیاسی حلقوں میں ایک نیا پینڈورا باکس کھل گیا ہے اور اس حوالے سے مختلف حلقوں کی جانب سے سخت ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق، صدارتی دورے کے دوران ایسے مناظر دیکھے گئے جہاں اعلیٰ حکام کو شدید سردی یا سفارتی مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ رپورٹس کے مطابق، انقرہ انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر نیٹو اجلاس کے بعد جب صدر ٹرمپ نے طیارے میں بورڈنگ کی، تو اس دوران دیگر اہم شخصیات اور عملے کے اراکین کو مبینہ طور پر نظر انداز کیا گیا۔ کیٹرنگ ٹرک اور دیگر لاجسٹک امور کے حوالے سے بھی اس دورے میں کئی قسم کی بے ضابطگیاں رپورٹ کی گئیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے طرزِ عمل سے نہ صرف سیکیورٹی پروٹوکول کی خلاف ورزی ہوتی ہے بلکہ یہ اپنے ماتحت عملے کی سلامتی کے لیے بھی خطرہ بن سکتا ہے۔ دوسری جانب وائٹ ہاؤس کے حکام نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہے اور انہیں سیاسی مخالفین کا پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔ حکام کا مؤقف ہے کہ تمام حفاظتی اقدامات کو مدنظر رکھا گیا تھا اور صدر کا شیڈول انتہائی سخت ہونے کی وجہ سے اس قسم کی غلط فہمیاں پیدا ہوئیں۔ تاہم، اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ سیکرٹ سروس اور پریس کے نمائندوں میں اس واقعے کی وجہ سے شدید تحفظات پائے جاتے ہیں اور وہ مستقبل میں اس قسم کے رویے کے خلاف آواز اٹھانے کا سوچ رہے ہیں۔