Health
واشنگٹن یونیورسٹی کی تحقیق میں نئی ایم آر این اے فلو ویکسین موثر قرار
واشنگٹن یونیورسٹی کے محققین نے انکشاف کیا ہے کہ ایم آر این اے ٹیکنالوجی پر مبنی نئی فلو ویکسین وائرس کی متعدد اقسام کے خلاف انتہائی موثر ثابت ہوئی ہے۔ اس پیش رفت سے بزرگ شہریوں اور کمزور مدافعتی نظام والے افراد کو بہتر تحفظ فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔
واشنگٹن یونیورسٹی کے ماہرینِ صحت نے انفلوئنزا کی نئی ایم آر این اے ویکسین پر اپنی تحقیق کے نتائج جاری کر دیے ہیں، جن کے مطابق یہ ویکسین فلو وائرس کی مختلف اور بدلتی ہوئی اقسام کے خلاف نمایاں طور پر موثر ثابت ہوئی ہے۔ اس تحقیق نے طبی حلقوں میں نئی امیدیں پیدا کر دی ہیں کیونکہ روایتی ویکسینز کے مقابلے میں ایم آر این اے ٹیکنالوجی وائرس کے خلاف زیادہ تیزی سے اور مؤثر انداز میں مدافعت پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نئی پیش رفت آنے والے وقت میں فلو کی وبا سے نمٹنے کے لیے ایک انقلابی قدم ثابت ہوگی۔
محققین کے مطابق، فلو وائرس ہر سال اپنی شکل تبدیل کرتا ہے جس کی وجہ سے ہر سیزن کے لیے نئی ویکسین تیار کرنا پڑتی ہے اور اس کی افادیت کو برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج ہوتا ہے۔ تاہم، ایم آر این اے ٹیکنالوجی اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے ایک بہترین حل فراہم کرتی ہے کیونکہ اس کے ذریعے انسانی جسم کو وائرس کے خلاف لڑنے کے لیے زیادہ درست اور جامع ہدایات دی جا سکتی ہیں۔ اس ویکسین کے استعمال سے نہ صرف بیماری کی شدت میں کمی واقع ہوتی ہے بلکہ اسپتالوں میں داخل ہونے والے مریضوں کی تعداد میں بھی نمایاں کمی کی توقع کی جا رہی ہے۔
طبی ماہرین خاص طور پر معمر افراد اور ان لوگوں کے لیے جو پہلے سے کسی اور بیماری کا شکار ہیں، اس نئی ویکسین کو ایک بڑی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔ بڑھتی ہوئی عمر کے ساتھ انسانی جسم کا مدافعتی نظام کمزور ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے فلو جیسے امراض زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ واشنگٹن یونیورسٹی کی یہ تحقیق اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ جدید سائنسی اور طبی تحقیقات عام آدمی کی صحت کو بہتر بنانے اور متعدد بیماریوں کے خطرات کو کم کرنے میں کس قدر اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ آنے والے مہینوں میں اس ویکسین کے مزید کلینیکل ٹرائلز اور منظوری کے مراحل متوقع ہیں تاکہ اسے جلد از جلد عام عوام کے لیے دستياب بنایا جا سکے گا۔