LIVE
Loading Breaking News...

بچار خواجہ: برنبی شہر میں مصنوعی ذہانت کا کامیاب استعمال

News Image
برنبی کے سی آئی او بچار خواجہ نے شہر کی انتظامیہ کو جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے بدل کر رکھ دیا ہے۔ ان کی کوششوں کا مقصد شہریوں کو اولین ترجیح دیتے ہوئے عوامی سہولیات میں بہتری لانا ہے۔
کینیڈا کے شہر برنبی کے چیف انفارمیشن آفیسر (CIO) بچار خواجہ نے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے شہری انتظام کے روایتی طریقوں میں ایک انقلابی تبدیلی پیدا کر دی ہے۔ 2026 کے 'کینیڈین سی آئی او آف دی ایئر' کے فائنلسٹ کے طور پر نامزد ہونے والے بچار خواجہ نے اپنے کیریئر کا آغاز ایک ایسے انداز میں کیا تھا جہاں ان کی توجہ بنیادی طور پر مسائل کو فوری حل کرنے اور ہنگامی حالات سے نمٹنے پر مرکوز تھی، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ انہوں نے اس کام کو مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے ایک نئی جہت عطا کی ہے۔ اب ان کا طریقہ کار محض مسائل کے پیدا ہونے کے بعد ان کی اصلاح کرنے تک محدود نہیں، بلکہ وہ AI کے ذریعے مسائل کے پیدا ہونے سے قبل ہی ان کی نشاندہی کر کے انہیں روکنے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔ بچار خواجہ کا ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی کا اصل مقصد شہریوں کی زندگیوں کو آسان بنانا ہے۔ انہوں نے برنبی شہر کی جدید کاری کے دوران شہریوں کو اپنی ترجیحات میں سرفہرست رکھا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب آپ کسی شہر کے انفراسٹرکچر کو ڈیجیٹل بناتے ہیں، تو سب سے بڑا چیلنج اسٹیک ہولڈرز اور عوام کا اعتماد حاصل کرنا ہوتا ہے۔ برنبی جیسے شہر میں، جہاں ہر فیصلے میں عوامی رائے اور ووٹ کی اہمیت ہوتی ہے، وہاں ٹیکنالوجی کو نافذ کرنا ایک پیچیدہ عمل ہے۔ تاہم، انہوں نے شفافیت اور بروقت عوامی رابطوں کے ذریعے اس رکاوٹ کو عبور کیا اور لوگوں کو اس بات پر قائل کیا کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی دراصل ان کے اپنے بہتر مستقبل کی ضمانت ہے۔ مصنوعی ذہانت کے نفاذ کے حوالے سے بچار خواجہ کی حکمت عملی ڈیٹا پر مبنی فیصلے لینے پر محیط ہے۔ شہر کے مختلف انتظامی شعبوں میں AI کا استعمال کرتے ہوئے اب ڈیٹا کو ریئل ٹائم میں پروسیس کیا جاتا ہے، جس سے ٹریفک مینجمنٹ، عوامی خدمات کی فراہمی، اور شہر کی ہنگامی خدمات کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے ثابت کیا ہے کہ اگر ٹیکنالوجی کو درست سمت میں استعمال کیا جائے تو یہ نہ صرف سرکاری اخراجات میں کمی لاتی ہے بلکہ شہریوں کو درپیش مسائل کو بھی ایک مؤثر طریقے سے حل کر سکتی ہے۔ ان کا یہ سفر صرف ایک تکنیکی کامیابی نہیں بلکہ انتظامی قیادت کی ایک شاندار مثال ہے۔ بچار خواجہ کے مطابق، ڈیجیٹل تبدیلی ایک مسلسل عمل ہے جو کہ ٹیکنالوجی اور انسانی بصیرت کے حسین امتزاج پر مبنی ہے۔ ان کے اقدامات سے نہ صرف برنبی شہر بلکہ کینیڈا بھر کی میونسپلٹیوں کے لیے ایک نیا معیار قائم ہوا ہے کہ کس طرح ایک CIO اپنی تکنیکی مہارت کو عوامی خدمت کے لیے وقف کر سکتا ہے۔ آنے والے وقت میں، برنبی کی یہ ماڈلنگ دیگر شہروں کے لیے ایک مشعلِ راہ ثابت ہوگی جو اپنی شہری خدمات کو سمارٹ اور تیز تر بنانا چاہتے ہیں۔