Business
عالمی مارکیٹ: امریکہ ایران مذاکرات اور جنگ بندی کے بعد تیل کی قیمتوں میں گراوٹ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کے بیان کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان حالیہ کشیدگی میں کمی اور عارضی جنگ بندی کے بعد سرمایہ کاروں کے خدشات کم ہوئے ہیں۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل دوسرے روز بھی بڑی گراوٹ دیکھی گئی ہے جس کی بنیادی وجہ امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات اور کشیدگی میں کمی کی خبریں ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے خاتمے اور دیرپا امن کے لیے تہران کے ساتھ بات چیت کا عمل جاری ہے۔ اس پیشرفت کے بعد توانائی کے عالمی منڈیوں میں مندی کا رجحان غالب آ گیا ہے اور تیل کے نرخوں میں چھ فیصد سے زائد کی کمی واقع ہوئی ہے۔ اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے مابین حالیہ ہفتوں میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور حملوں کے بعد فریقین کا عارضی طور پر جنگ روکنا مارکیٹ کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے۔ سرمایہ کار جو کہ اس خطے سے تیل کی رسد میں خلل پڑنے سے شدید خائف تھے، اب صورتحال میں بہتری کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔ اگرچہ دونوں جانب سے اب بھی بعض اوقات متضاد بیانات سامنے آ رہے ہیں، تاہم تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ کشیدگی میں کمی کا یہ وقفہ عالمی معیشت اور تیل کی سپلائی لائن کے لیے ایک خوش آئند قدم ہے۔ اس صورتحال کے نتیجے میں نارتھ سی برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی خام تیل کے نرخوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے جس سے دنیا بھر کے صارفین کو مہنگائی کے دباؤ سے عارضی ریلیف ملنے کی توقع کی جا رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں بین الاقوامی سفارتی کوششیں اور دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا نتیجہ اس بات کا تعین کرے گا کہ تیل کی قیمتوں کا یہ زوال مستقل شکل اختیار کرتا ہے یا نہیں۔