LIVE
Loading Breaking News...

لاس اینجلس لیکرز کی فروخت: این بی اے کی تاریخ کا سب سے بڑا سودا

News Image
معروف ارب پتی مارک والٹر نے این بی اے کی مشہور ٹیم لاس اینجلس لیکرز کو فروخت کرنے کا حتمی معاہدہ کر لیا ہے۔ یہ سودا 12.5 ارب ڈالر کی ریکارڈ رقم میں طے پایا ہے جو شمالی امریکی کھیلوں کی تاریخ میں سب سے مہنگی ڈیل ہے۔
شمالی امریکہ کے کھیلوں کی صنعت میں ایک تاریخی پیشرفت سامنے آئی ہے جس کے تحت باسکٹ بال کی دنیا کی مقبول ترین ٹیم 'لاس اینجلس لیکرز' کو 12.5 ارب ڈالر کی ریکارڈ قیمت پر فروخت کر دیا گیا ہے۔ اس بڑی ڈیل میں معروف سرمایہ کار جوش کشنر اور ڈزنی کے سابق سی ای او باب ایگر نے مشترکہ طور پر حصہ لیا ہے۔ اس سے قبل یہ فرنچائز ارب پتی مارک والٹر کی ملکیت تھی، اور اب اس سودے کے بعد یہ این بی اے (NBA) کی تاریخ کا سب سے مہنگا ترین معاہدہ بن گیا ہے۔ یہ لین دین نہ صرف کھیلوں کی مارکیٹ میں تیزی کا عکاس ہے بلکہ این بی اے کی فرنچائزز کی بڑھتی ہوئی قدر کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ مارک والٹر کی جانب سے اس ٹیم کی فروخت کا فیصلہ کھیلوں کی دنیا میں ایک زلزلہ خیز تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ اتنی بڑی خطیر رقم کسی بھی امریکی کھیلوں کی ٹیم کے لیے پہلے کبھی ادا نہیں کی گئی۔ ماہرین کا خیال ہے کہ باب ایگر کی قیادت اور جوش کشنر کے کاروباری تجربے سے لیکرز کی فرنچائز مستقبل میں مزید ترقی کرے گی اور میڈیا حقوق سمیت کمرشل معاملات میں نئے معیارات قائم کرے گی۔ اس معاہدے کے بعد این بی اے کے دیگر کلبوں کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافے کی توقع کی جا رہی ہے۔ ڈیل کے مالیاتی پہلوؤں پر تبصرہ کرتے ہوئے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ 12.5 ارب ڈالر کا ہندسہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ باسکٹ بال لیگز عالمی سطح پر سرمایہ کاری کا سب سے محفوظ اور منافع بخش ذریعہ بن چکی ہیں۔ اگرچہ اس فروخت کے حوالے سے مزید تکنیکی تفصیلات ابھی سامنے آنا باقی ہیں، لیکن باسکٹ بال کے شائقین اس تبدیلی کو ایک نئے دور کا آغاز قرار دے رہے ہیں۔ لیکرز کی ٹیم، جس کا شمار دنیا کی سب سے زیادہ فین بیس رکھنے والی ٹیموں میں ہوتا ہے، اب نئے مالکان کے زیر انتظام اپنی نئی حکمت عملیوں پر کام شروع کرے گی۔ امید کی جا رہی ہے کہ نئے مالکان ٹیم کی برانڈ ویلیو کو عالمی سطح پر مزید بڑھانے کے لیے اقدامات کریں گے۔