LIVE
Loading Breaking News...

فریڈرک ایٹیکسیا کے لیے حکومتی فنڈنگ پر پابندی، طبی ماہرین کا فیصلہ

News Image
آئرلینڈ کے ایچ ایس ای ڈرگس گروپ نے نایاب بیماری فریڈرک ایٹیکسیا کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی دوا کی سرکاری سطح پر فنڈنگ کی سفارش کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ گروپ کا کہنا ہے کہ موجودہ شواہد اور طبی اخراجات کی بنیاد پر اس وقت اسے سرکاری فنڈنگ میں شامل کرنا ممکن نہیں ہے۔
آئرلینڈ کے ہیلتھ سروس ایگزیکٹو (HSE) ڈرگس گروپ نے ایک اہم فیصلے میں یہ سفارش کی ہے کہ نایاب بیماری 'فریڈرک ایٹیکسیا' (Friedreich's ataxia) کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی نئی دوا کو فی الحال سرکاری فنڈنگ فراہم نہ کی جائے۔ ایچ ایس ای ڈرگس گروپ کا یہ فیصلہ ان مریضوں اور ان کے اہل خانہ کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے جو طویل عرصے سے اس بیماری کے علاج کے لیے حکومتی امداد کی توقع کر رہے تھے۔ فریڈرک ایٹیکسیا ایک جینیاتی اور اعصابی بیماری ہے جو انسان کے چلنے پھرنے اور توازن برقرار رکھنے کی صلاحیت کو بتدریج ختم کر دیتی ہے، جس کے باعث مریضوں کو روزمرہ کے کاموں میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ گروپ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے دوا کی افادیت، طبی شواہد اور اس کی قیمت کے حوالے سے تفصیلی جائزے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ اس وقت اسے سرکاری فنڈنگ کے دائرہ کار میں لانا طبی و مالی اعتبار سے قابل عمل نہیں ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ دوا کی قیمت بہت زیادہ ہے اور اس کے طویل مدتی نتائج کے حوالے سے ابھی مزید شواہد کی ضرورت ہے۔ یہ گروپ ادویات کی قیمتوں کا موازنہ مریضوں کو حاصل ہونے والے ممکنہ فوائد سے کرتا ہے تاکہ یہ فیصلہ کیا جا سکے کہ آیا سرکاری خزانے سے اس پر سرمایہ کاری کرنا درست ہے یا نہیں۔ دوسری جانب، طبی ماہرین اور مریضوں کے حقوق کی تنظیموں نے اس فیصلے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نایاب بیماریوں میں مبتلا افراد کے لیے سرکاری امداد انتہائی ضروری ہے کیونکہ ان ادویات کی قیمت عام مریض کی قوت خرید سے باہر ہوتی ہے۔ تنظیموں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے پر نظرثانی کرے اور دوا ساز کمپنیوں کے ساتھ قیمتوں کے حوالے سے دوبارہ مذاکرات کرے تاکہ مریضوں کو بروقت علاج کی سہولت مل سکے۔ فی الحال یہ معاملہ مزید پیچیدہ ہوتا نظر آ رہا ہے کیونکہ حکومت اپنی مالی پالیسیوں پر قائم ہے جبکہ مریضوں کی حالت تشویشناک حد تک خراب ہو رہی ہے۔ ماہرین صحت کے مطابق، فریڈرک ایٹیکسیا کا علاج نہ صرف مریض کی زندگی کے معیار کو بہتر بنا سکتا ہے بلکہ مستقبل میں معذوری کے اخراجات کو بھی کم کر سکتا ہے۔ اس لیے اس دوا کی منظوری صرف ایک طبی فیصلہ نہیں بلکہ ایک انسانی ہمدردی کا معاملہ بھی ہے۔ آنے والے دنوں میں توقع کی جا رہی ہے کہ مریضوں کے گروپس حکومتی حکام سے ملاقات کر کے اس فیصلے کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کروائیں گے اور حکومت پر دباؤ ڈالیں گے کہ وہ اس زندگی بچانے والی دوا کو فنڈنگ کی فہرست میں شامل کرے۔