LIVE
Loading Breaking News...

امریکن ایئرلائنز کے پرانے ایئربس طیارے اسیر ایئر میں شامل

News Image
امریکن ایئرلائنز کی جانب سے وبائی مرض کے دوران جلد بازی میں ریٹائر کیے گئے ایئربس A330 طیارے اب اسرائیل کی فضائی کمپنی اسیر ایئر کے بیڑے کا حصہ بن گئے ہیں۔ یہ طیارے تل ابیب کے لیے بین الاقوامی پروازوں پر دوبارہ استعمال کیے جائیں گے۔
امریکن ایئرلائنز کی جانب سے کورونا وائرس کی عالمی وبا کے دوران اپنے نسبتاً نئے ایئربس A330-200 طیاروں کو ریٹائر کرنے کا فیصلہ اب ایک بڑی کاروباری غلطی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ایئرلائن نے اس وقت ان طیاروں کو سروس سے نکال دیا تھا جب بین الاقوامی سفر پر پابندیاں عائد تھیں، تاہم جیسے ہی وبا کا زور ٹوٹا اور بین الاقوامی مانگ میں تیزی سے اضافہ ہوا، امریکن ایئرلائنز خود کو طویل فاصلے تک پرواز کرنے والے طیاروں کی شدید کمی کا شکار پایا۔ اب یہی طیارے ایک نئی پہچان کے ساتھ بین الاقوامی آسمانوں پر واپسی کے لیے تیار ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ جو طیارے امریکن ایئرلائنز کے لیے 'بوجھ' بن چکے تھے، انہیں اسرائیلی ایئرلائن 'اسیر ایئر' (Israir) نے حاصل کر لیا ہے۔ اسیر ایئر نے ان دو سابقہ امریکن ایئرلائنز کے طیاروں کو اپنے فضائی بیڑے میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کا مقصد تل ابیب سے بین الاقوامی مقامات تک اپنی پروازوں کے نیٹ ورک کو وسعت دینا ہے۔ اسیر ایئر کی جانب سے ان طیاروں کا استعمال اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ہوا بازی کی صنعت میں طیاروں کی مانگ میں کتنا اضافہ ہو چکا ہے اور پرانے طیاروں کی بھی اب مارکیٹ میں قدر بڑھ گئی ہے۔ امریکن ایئرلائنز کو آج بھی تل ابیب کے لیے اپنی براہِ راست پروازیں بحال کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ اس کے اپنے ہی فروخت کردہ طیارے اب اس روٹ پر مسافروں کو سفر کی سہولت فراہم کریں گے۔ یہ صورتحال ایوی ایشن انڈسٹری کے ماہرین کے لیے ایک دلچسپ کیس اسٹڈی ہے کہ کیسے وبا کے دوران لیے گئے عجلت میں فیصلے بعد ازاں کمپنی کی حکمت عملی میں خلا پیدا کر دیتے ہیں۔ اسیر ایئر کی جانب سے ان طیاروں کی شمولیت سے نہ صرف ان کی آپریشنل صلاحیت بڑھے گی بلکہ یہ طیارے اب ایک نئے خطے میں اپنی خدمات کا دوبارہ آغاز کریں گے۔ اس پیش رفت کے بعد، ایوی ایشن کے حلقوں میں یہ بحث بھی جنم لے رہی ہے کہ آیا بڑی ایئرلائنز کو اپنی حکمت عملی میں مزید لچک لانے کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں ایسے حالات سے بچا جا سکے۔ امریکن ایئرلائنز کے لیے یہ ایک سبق ہے کہ بحران کے وقت اپنے اثاثوں کو تیزی سے فروخت کرنا طویل مدتی نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔ فی الحال، یہ دو ایئربس طیارے اسیر ایئر کے بیڑے میں شامل ہو کر تل ابیب کے مسافروں کے لیے ایک اہم ذریعہ آمدورفت ثابت ہوں گے، جبکہ امریکن ایئرلائنز اب بھی ان طویل فاصلے کے روٹس پر اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی تگ و دو میں مصروف ہے۔