World
کولمبیا زلزلہ: ہزاروں افراد لاپتہ، ریسکیو آپریشن میں تیزی
کولمبیا میں آنے والے شدید زلزلے کے نتیجے میں وسیع پیمانے پر تباہی مچی ہے اور ہزاروں افراد لاپتہ ہو گئے ہیں۔ حکام کی جانب سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو آپریشن کو تیز کر دیا گیا ہے تاکہ ملبے تلے دبے افراد کو نکالا جا سکے۔
کولمبیا میں آنے والے ایک انتہائی شدید زلزلے نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے، جس کے بعد حکام نے ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق زلزلے کے جھٹکے اتنے زوردار تھے کہ متعدد رہائشی عمارتیں اور تجارتی مراکز زمین بوس ہو گئے، جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ مقامی حکام کا کہنا ہے کہ تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے تلے بڑی تعداد میں لوگوں کے دبے ہونے کا خدشہ ہے، جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کی تشویش پائی جاتی ہے۔ زلزلے کے بعد سے مواصلاتی نظام درہم برہم ہو چکا ہے جس کی وجہ سے دور دراز علاقوں تک رسائی میں مشکلات کا سامنا ہے۔ حکومت نے پاک فوج اور دیگر ریسکیو اداروں کو ہنگامی بنیادوں پر متاثرہ علاقوں میں بھیج دیا ہے تاکہ جلد از جلد لوگوں کی جانیں بچائی جا سکیں۔ امدادی ٹیمیں جدید آلات اور سراغ رساں کتوں کی مدد سے ملبے کے ڈھیر میں تلاش کا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ریسکیو آپریشن کے دوران اب تک کئی زخمیوں کو ملبے سے زندہ نکال کر ہسپتالوں میں منتقل کیا جا چکا ہے، جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور ڈاکٹروں کی ٹیمیں دن رات مریضوں کے علاج میں مصروف ہیں۔ متاثرہ علاقوں کے مکینوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا عمل بھی جاری ہے تاکہ کسی بھی مزید ممکنہ خطرے سے بچا جا سکے۔ دوسری جانب بین الاقوامی برادری نے بھی کولمبیا کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا ہے اور امدادی کاموں میں تعاون کی پیشکش کی ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی امدادی تنظیموں نے کہا ہے کہ وہ ہنگامی خوراک، ادویات اور خیمے متاثرین تک پہنچانے کے لیے کولمبیا کی حکومت کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں آفٹر شاکس کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے، جس کے پیش نظر لوگوں کو غیر محفوظ عمارتوں سے دور رہنے کی تنبیہ کی گئی ہے۔ مقامی انتظامیہ اب بھی گمشدہ افراد کی حتمی فہرست مرتب کرنے کے لیے کوشاں ہے، تاہم بجلی اور انٹرنیٹ کی بندش اس عمل میں بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ حکومتی ترجمان کے مطابق ان کی اولین ترجیح ملبے تلے دبے افراد کو زندہ نکالنا ہے اور اس کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔