Politics
گیون نیوسم کے صدارتی خواب اور چین کے ساتھ متنازعہ تعلقات
کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوسم کی جانب سے موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے چین کے ساتھ تعاون ان کے 2028 کے صدارتی عزائم کے لیے سیاسی مشکلات پیدا کر رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ چین کے ساتھ ان کی نرم پالیسی امریکی مفادات کو پسِ پشت ڈالنے کے مترادف ہے۔
کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوسم، جنہیں امریکی ڈیموکریٹک پارٹی کے مستقبل کے ایک اہم رہنما کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، اس وقت اپنی موسمیاتی پالیسی اور چین کے ساتھ تعلقات کی وجہ سے شدید تنقید کی زد میں ہیں۔ نیوسم کا ماننا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف ان کی کوششیں اور چین کے ساتھ تکنیکی شراکت داری انہیں 2028 کے صدارتی انتخابات کے لیے ایک مضبوط امیدوار کے طور پر پیش کرے گی۔ تاہم، تجزیہ کاروں اور سیاسی مخالفین کا کہنا ہے کہ یہ حکمت عملی ان کے لیے فائدہ مند ثابت ہونے کے بجائے ایک بڑی سیاسی غلطی ثابت ہو سکتی ہے۔ ناقدین کا دعویٰ ہے کہ چین کے ساتھ نیوسم کی قربت درحقیقت امریکی مفادات کو نقصان پہنچا رہی ہے اور انہیں عالمی سیاست کے پیچیدہ میدان میں ایک کمزور کھلاڑی کے طور پر پیش کر رہی ہے۔
چین دنیا میں کاربن کے اخراج کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے، اور گیون نیوسم نے کیلیفورنیا کے گورنر کی حیثیت سے بیجنگ کے ساتھ موسمیاتی معاہدوں پر دستخط کرنے کے لیے کافی سرگرمی دکھائی ہے۔ نیوسم کا موقف ہے کہ ماحولیاتی بحران کا مقابلہ کرنے کے لیے چین کے ساتھ تعاون ناگزیر ہے کیونکہ کوئی بھی ملک تنہا اس عالمی مسئلے کا حل نہیں نکال سکتا۔ لیکن واشنگٹن کے سیاسی حلقوں میں اس اقدام کو شکوک و شبہات کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔ بہت سے ماہرین کا ماننا ہے کہ چین اپنی ٹیکنالوجی اور اثر و رسوخ کے ذریعے امریکی پالیسیوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہا ہے، اور نیوسم کی 'موسمیاتی جوش و خروش' انہیں چین کے ہاتھوں میں ایک آلہ کار بنا سکتی ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق، 2028 کی انتخابی مہم کے دوران یہ معاملہ ایک اہم بحث کا موضوع بنے گا۔ ریپبلکن امیدوار اور حتیٰ کہ ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر موجود قدامت پسند عناصر بھی اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ چین کے ساتھ کسی بھی قسم کا تعاون امریکی اقتصادی اور قومی سلامتی کی قیمت پر نہیں ہونا چاہیے۔ کیلیفورنیا کے گورنر کے لیے اب چیلنج یہ ہے کہ وہ عوام کو یہ باور کرائیں کہ ان کی ماحولیاتی پالیسی 'کمزوری' نہیں بلکہ ایک دور اندیش اقدام ہے۔ اگر وہ اس تنقید کا جواب دینے میں ناکام رہتے ہیں، تو ان کے صدارتی خوابوں کی تعبیر مشکل سے مشکل تر ہوتی جائے گی، کیونکہ امریکی ووٹرز کے لیے چین کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ کسی بھی صورت میں قابلِ قبول نہیں ہے۔