LIVE
Loading Breaking News...

کرپٹو کرنسی فراڈ: مصنوعی ذہانت کے ذریعے دھوکہ دہی میں تشویشناک اضافہ

News Image
چینالائسز کی حالیہ رپورٹ کے مطابق سال 2025 میں کرپٹو کرنسی کے شعبے میں دھوکہ دہی کے واقعات میں بے پناہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ مصنوعی ذہانت کے ٹولز کا غلط استعمال مجرموں کو زیادہ آسانی سے لوگوں کو بیوقوف بنانے میں مدد دے رہا ہے۔
ڈیجیٹل کرنسی اور بلاک چین کے تجزیاتی پلیٹ فارم 'چینالائسز' (Chainalysis) کی جاری کردہ تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، سال 2025 کے دوران کرپٹو کرنسی کے شعبے میں جعلی شناخت اور امپرسنیشن (Impersonation) اسکیموں میں 1400 فیصد سے زائد کا خوفناک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ اس اضافے کی بنیادی وجہ مصنوعی ذہانت (AI) کے جدید ٹولز کا غلط استعمال ہے، جس نے مجرموں کے لیے لوگوں کو دھوکہ دینا انتہائی آسان بنا دیا ہے۔ سائبر مجرم اب AI ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے معروف شخصیات یا اداروں کی نقل کر کے سرمایہ کاروں کو اپنے جال میں پھنسا رہے ہیں۔ اس رپورٹ میں مزید انکشاف ہوا ہے کہ نہ صرف دھوکہ دہی کے واقعات کی تعداد بڑھی ہے بلکہ ان اسکیموں کے ذریعے ہتھائے جانے والے اوسط رقوم میں بھی 600 فیصد سے زیادہ کا نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، تمام قسم کے کرپٹو اسکیموں میں ہونے والی اوسط ادائیگی، جو پہلے 782 ڈالر تھی، اب بڑھ کر 2764 ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مجرم اب زیادہ منظم اور جدید طریقوں کا استعمال کر رہے ہیں تاکہ صارفین کے اعتماد کو ٹھیس پہنچا کر ان کی رقوم ہتھائی جا سکیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کرپٹو مارکیٹ میں تیزی اور ٹیکنالوجی کی پیچیدگی عام صارفین کے لیے مشکلات کا باعث بن رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت کے ذریعے بنائے گئے جعلی ویڈیوز، آڈیو پیغامات اور ای میلز کے ذریعے لوگوں کو یہ یقین دلایا جاتا ہے کہ وہ کسی بااعتماد پلیٹ فارم سے بات کر رہے ہیں۔ اس طرح کے حملوں کے شکار افراد اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی سے محروم ہو رہے ہیں کیونکہ کرپٹو ٹرانزیکشنز کی واپسی کا عمل تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر، سائبر سیکیورٹی ماہرین نے صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ کسی بھی قسم کی سرمایہ کاری سے پہلے پلیٹ فارم کی تصدیق ضرور کریں اور کسی بھی غیر معروف لنک یا مشکوک پیغام پر بھروسہ نہ کریں۔ اداروں کو بھی چاہیے کہ وہ صارفین کو آگاہی فراہم کرنے کے لیے مزید اقدامات کریں اور اپنی سیکیورٹی لیئرز کو بہتر بنائیں۔ اگرچہ ٹیکنالوجی ترقی کر رہی ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ انسانی احتیاط ہی اس طرح کے بڑے مالیاتی فراڈ سے بچاؤ کا واحد راستہ ہے۔