LIVE
Loading Breaking News...

فیا کمپنی اسکینڈل: بانیوں پر فروخت کے جھوٹے اعداد و شمار کا الزام

News Image
نئی رپورٹس کے مطابق فیا (Phia) کمپنی کے بانیوں کو پہلے سے معلوم تھا کہ ان کی ٹیکنالوجی فروخت کے غلط دعوے کر رہی ہے۔ کمپنی کی جانب سے گیارہ گنا آمدنی کا دعویٰ اب سنگین سوالات کی زد میں ہے۔
ٹیکنالوجی اور سٹارٹ اپ کی دنیا میں ایک بڑا تنازع اس وقت سامنے آیا ہے جب فیا (Phia) نامی کمپنی کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ اس کے بانیوں کو کمپنی کی آمدنی کے اعداد و شمار میں ہیرا پھیری کا مکمل علم تھا۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق، فوبی گیٹس اور صوفیہ کیانی کو اس بات کا علم تھا کہ ان کی کمپنی کی ایفلیٹ ٹیکنالوجی ان خریداریوں کا کریڈٹ لے رہی ہے جو درحقیقت اس ٹیکنالوجی کے ذریعے ممکن نہیں ہوئی تھیں۔ یہ انکشافات کمپنی کی 35 ملین ڈالر کی سیریز اے فنڈنگ حاصل کرنے سے کچھ ماہ قبل سامنے آئے، جس سے سرمایہ کاروں اور مارکیٹ میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ کمپنی نے اپنے دعووں میں گیارہ گنا آمدنی میں اضافے کو نمایاں کیا تھا، جو اب غیر حقیقی معلوم ہوتا ہے۔ اندرونی پیغامات سے پتہ چلتا ہے کہ بانیان اس بات سے پوری طرح واقف تھے کہ ان کا سسٹم فروخت کے ایسے اعداد و شمار دکھا رہا ہے جو حقیقت پر مبنی نہیں ہیں۔ اس صورتحال نے نہ صرف کمپنی کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے بلکہ سٹارٹ اپ انڈسٹری میں شفافیت کے فقدان پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں، تو یہ کارپوریٹ گورننس کی ایک بڑی خلاف ورزی ہے جس کے سنگین قانونی نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ کمپنی کی جانب سے تاحال اس معاملے پر کوئی باضابطہ وضاحت جاری نہیں کی گئی ہے، تاہم سرمایہ کار حلقوں میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ تجزیہ کاروں کا یہ بھی ماننا ہے کہ اس طرح کے واقعات مستقبل میں نئی کمپنیوں کے لیے فنڈنگ حاصل کرنے کے عمل کو مزید مشکل اور سخت بنا سکتے ہیں، کیونکہ اب سرمایہ کار کسی بھی دعوے کی تصدیق کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ محتاط رویہ اپنائیں گے۔ یہ معاملہ اب تکنیکی تحقیقات اور قانونی جانچ پڑتال کے عمل سے گزر سکتا ہے، جس کے بعد ہی یہ واضح ہوگا کہ کمپنی نے جان بوجھ کر سرمایہ کاروں کو گمراہ کیا یا یہ محض ایک تکنیکی غلطی تھی۔