World
یوکرین کے صدر زیلنسکی کا دورہ واشنگٹن اور فضائی دفاعی نظام پر زور
یوکرین کے صدر واشنگٹن کے دورے کے دوران امریکی قیادت بالخصوص ڈونلڈ ٹرمپ پر زور دیں گے کہ وہ کیف کے فضائی دفاعی نظام کو مزید مضبوط بنائیں۔ روس کی جانب سے حالیہ دنوں میں ہلاکت خیز حملوں میں شدت لائے جانے کے بعد یوکرین کو جدید دفاعی سازوسامان کی اشد ضرورت ہے۔
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی اپنے دورہ واشنگٹن کے دوران امریکی رہنماؤں خصوصاً ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے فضائی دفاعی نظام کو مزید مستحکم کرنے کا معاملہ شد و مد سے اٹھانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب روس نے یوکرین کے مختلف شہروں پر اپنے مہلک میزائل اور فضائی حملوں میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ یوکرینی قیادت کی اولین ترجیح اس وقت ملک کے بنیادی ڈھانچے اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے، جس کے لیے جدید ترین اینٹی بیلسٹک میزائل ڈیفنس سسٹمز کی فراہمی انتہائی ضروری ہے۔ واشنگٹن میں ہونے والی ان اہم ملاقاتوں میں امریکی عزم کو پختہ کرنے کی کوشش کی جائے گی تاکہ کیف کو درپیش سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے واشنگٹن کی مسلسل حمایت حاصل رہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، روس اور یوکرین کے درمیان جاری اس طویل تنازع میں فضائی دفاعی برتری کلیدی حیثیت رکھتی ہے، اور کیف انتظامیہ چاہتی ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے فوجی امداد کا تسلسل برقرار رکھا جائے۔ اس دورے کے دوران امریکی سیاسی حلقوں میں یوکرین کی حمایت کے مستقبل اور جنگ کے ممکنہ سفارتی یا عسکری حل پر بھی گہرائی سے تبادلہ خیال متوقع ہے، جس پر بین الاقوامی دنیا کی بھی نظریں لگی ہوئی ہیں۔