LIVE
Loading Breaking News...

جدید جنگی حکمت عملی اور ایئر پاور کی اہمیت و افادیت

News Image
مبصرین کا کہنا ہے کہ ایرانی قیادت کے حالیہ رویے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ عسکری طاقت کا استعمال تب تک بے سود ہے جب تک اس کے پیچھے ایک واضح اور مربوط سیاسی حکمت عملی موجود نہ ہو۔ فضائی طاقت کی صلاحیتیں اپنی جگہ مسلمہ ہیں مگر یہ خود بخود سفارتی اہداف حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں بن سکتیں۔
حال ہی میں ایران کی قیادت کی جانب سے امریکی مطالبات کو تسلیم کرنے سے ہچکچاہٹ پر عالمی سطح پر یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ آیا فضائی طاقت یعنی ایئر پاور اپنی تاثیر کھو چکی ہے یا اس کے استعمال کے پیچھے موجود سیاسی حکمت عملی میں کوئی نقص ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ بی-2 اسپرٹ جیسے جدید طیاروں اور انتہائی درستگی سے اہداف کو نشانہ بنانے والی ٹیکنالوجی کے باوجود، فوجی طاقت تب تک مطلوبہ نتائج نہیں دے سکتی جب تک اس کا استعمال ایک واضح سیاسی مقصد کے ساتھ منسلک نہ ہو۔ فضائی طاقت محض ایک آلہ ہے، لیکن اسے منزل تک پہنچانے کے لیے ایک ٹھوس سفارتی اور سٹریٹیجک لائحہ عمل کی ضرورت ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق، جدید جنگی تاریخ میں یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ صرف طاقت کا مظاہرہ یا محدود فضائی کارروائیاں کسی ملک کی قیادت کو اپنے فیصلے بدلنے پر مجبور نہیں کر سکتیں۔ ایران جیسے ممالک کے معاملے میں، جہاں قومی وقار اور نظریاتی موقف کو بہت اہمیت دی جاتی ہے، وہاں فضائی طاقت کا محض خوف دلا کر اہداف کا حصول مشکل ہو جاتا ہے۔ مسئلے کی جڑ 'ایئر پاور کی حدود' نہیں بلکہ اس کا غلط استعمال ہے۔ جب کسی عسکری مہم کے پاس کوئی 'ایگزٹ سٹریٹیجی' یا سیاسی سمجھوتہ کرنے کا ٹھوس راستہ نہیں ہوتا، تو فضائی کارروائیاں محض کشیدگی میں اضافے کا باعث بنتی ہیں۔ اس تناظر میں یہ دیکھنا ضروری ہے کہ امریکی دفاعی پالیسی سازوں کو اپنی سٹریٹیجی پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ کسی بھی آپریشن کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ آیا وہ کارروائی دشمن کے لیے کوئی قابل قبول راستہ چھوڑتی ہے یا اسے دیوار کے ساتھ لگا دیتی ہے۔ اگر فضائی طاقت کا استعمال صرف طاقت دکھانے کے لیے کیا جائے اور اس کے ساتھ سفارتی چینلز بند رہیں، تو نتائج کبھی بھی توقع کے مطابق برآمد نہیں ہوں گے۔ لہذا، یہ کہنا درست ہوگا کہ ایئر پاور کی صلاحیتیں کم نہیں ہوئیں، بلکہ ان کے ساتھ جڑی ہوئی سیاسی حکمت عملی کے فقدان نے ان کی افادیت کو محدود کر دیا ہے۔ مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے طاقت اور سفارت کاری کا متوازن امتزاج ہی واحد راستہ ہے۔