Technology
سرکاری شعبے میں ٹیکنالوجی کا ارتقاء: آئی ٹی سربراہان کے نئے چیلنجز
سرکاری شعبے کے جدید آئی ٹی سربراہان اب ٹیکنالوجی کی تنصیب سے آگے بڑھ کر مصنوعی ذہانت اور کوانٹم کمپیوٹنگ جیسے پیچیدہ مسائل کو حل کر رہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی کے مقابلے میں ادارے کے اندر افرادی قوت اور ثقافتی تبدیلی لانا کہیں زیادہ بڑا چیلنج ہے۔
دور حاضر میں سرکاری شعبے کے چیف انفارمیشن آفیسرز (CIOs) کے کردار میں ایک نمایاں تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق کینیڈا میں پولیس افسران اب خود اپنے لیے مصنوعی ذہانت کے ایجنٹس تیار کر رہے ہیں، جبکہ وکٹوریہ میں واقع ادارہ جاتی سرمایہ کار اپنے سسٹمز کو کوانٹم کمپیوٹنگ کے خطرات سے محفوظ بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔ اس کے علاوہ برنابی شہر جیسے مقامی انتظامی ادارے مصنوعی ذہانت سے لیس کیمروں کا استعمال کر رہے ہیں تاکہ شہری خدمات کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔ یہ تمام مثالیں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ ٹیکنالوجی اب صرف ایک معاون آلہ نہیں بلکہ سرکاری نظم و نسق کا بنیادی جزو بن چکی ہے۔
تاہم ان ماہرین کا متفقہ طور پر یہ ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی کو نافذ کرنا یا نئے سافٹ ویئر انسٹال کرنا اصل مسئلہ نہیں ہے۔ اصل چیلنج اس ٹیکنالوجی کو ادارے کی ثقافت میں ضم کرنا ہے۔ ایک سرکاری ادارے کے سربراہ کے لیے سب سے مشکل کام اپنے ملازمین کو نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ ہم آہنگ کرنا، ڈیٹا کے تحفظ کے حوالے سے پالیسیاں بنانا اور عوامی اعتماد کو برقرار رکھنا ہے۔ جب ٹیکنالوجی کی بات آتی ہے تو اسے خریدا جا سکتا ہے یا تیار کیا جا سکتا ہے، لیکن جس رفتار سے ٹیکنالوجی بدل رہی ہے، اس کے ساتھ ملازمین کی تربیت اور ورک کلچر کو تبدیل کرنا ایک طویل مدتی اور صبر آزما عمل ہے۔
اس تبدیلی کے سفر میں ڈیٹا کی حکمرانی (Data Governance) اور اخلاقیات بھی اہم ترین ستون ہیں۔ سرکاری اداروں کے آئی ٹی سربراہان اب اس بات پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں کہ کس طرح شفافیت کو یقینی بنایا جائے اور مصنوعی ذہانت کے فیصلوں میں انسانی مداخلت کو برقرار رکھا جائے۔ یہ افسران اب صرف تکنیکی ماہرین نہیں رہے، بلکہ وہ اسٹریٹجک لیڈرز بن چکے ہیں جو یہ طے کرتے ہیں کہ جدید ٹیکنالوجی عوامی فلاح و بہبود کے لیے کس طرح استعمال کی جائے۔ ان کا مشن یہ ہے کہ ٹیکنالوجی کا فائدہ نچلی سطح تک پہنچے اور شہریوں کو ملنے والی خدمات میں تیزی اور درستگی آ سکے۔
مستقبل کے حوالے سے سرکاری شعبے کے آئی ٹی سربراہان اب کوانٹم سیکیورٹی اور ڈیجیٹل خودمختاری کو اولین ترجیح دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ ٹیکنالوجی کے نئے ذرائع مسلسل سامنے آ رہے ہیں، لیکن ان کا درست استعمال ہی وہ پیمانہ ہے جس سے کسی بھی سرکاری ادارے کی کامیابی کو ناپا جا سکتا ہے۔ تکنیکی ترقی کے اس دور میں، ان افسران کی حکمت عملی یہ ہے کہ وہ جدید ٹولز کو پرانے اور روایتی سرکاری نظام کے ساتھ ہم آہنگ کریں تاکہ ایک ایسی ڈیجیٹل بنیاد رکھی جا سکے جو آنے والے برسوں کے تقاضوں کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔