LIVE
Loading Breaking News...

ہومر کے مترجم کی نولان کی فلمی موافقت پر سخت تنقید

News Image
ہومر کے مشہور زمانہ کلاسک ادبی شاہکار اوڈیسی کے ایک مترجم نے نولان کی نئی فلمی موافقت پر شدید تنقید کی ہے۔ جہاں ناقدین کی طرف سے اس فلم کو سراہا گیا ہے، وہیں مترجم کی یہ سخت رائے ادبی حلقوں میں بحث کا موضوع بن گئی ہے۔
عالمی شہرت یافتہ فلم ساز کرسٹوفر نولان کی جانب سے ادبی شہ پاروں کو پردہ سکرین پر لانے کا سلسلہ ہمیشہ سے ناظرین اور ناقدین کی توجہ کا مرکز رہا ہے۔ حال ہی میں نولان کی ایک نئی فلمی موافقت کو دنیا بھر کے فلمی ناقدین کی طرف سے بے پناہ پذیرائی ملی اور اسے سراہا گیا، تاہم ہومر کے کلاسیکی ادبی کام اوڈیسی کے ایک مترجم نے اس پراجیکٹ پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ایک سخت جائزہ تحریر کیا ہے۔ یہ تنقید ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب فلم باکس آفس پر کامیابی کے جھنڈے گاڑ رہی ہے اور عام شائقین میں بھی اس کا بڑا چرچا ہے۔ مترجم نے فلمی کہانی اور اس کی پیشکش کے انداز پر کھل کر تنقید کی ہے، جس نے ادبی دنیا اور فلمی شائقین کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ ناقدین کا خیال ہے کہ فلمی دنیا میں کلاسک کہانیوں کو ڈھالتے وقت کچھ تخلیقی آزادی لینا ناگزیر ہوتا ہے، تاکہ جدید دور کے ناظرین کی دلچسپی کو برقرار رکھا جا سکے، لیکن دوسری طرف ادبی حلقوں کا ماننا ہے کہ اس عمل میں اصل کتاب کی روح اور اس کے بنیادی فلسفے کے ساتھ سمجھوتہ نہیں کیا جانا چاہیے۔ اس مباحثے نے ایک بار پھر اس پرانی بحث کو زندہ کر دیا ہے کہ آیا کلاسک ادبی شاہکاروں کو فلمی قالب میں ڈھالتے وقت ان کے ساتھ مکمل انصاف کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ مترجم کا یہ سخت تبصرہ اب سوشل میڈیا اور ادبی جریدوں میں موضوعِ بحث بنا ہوا ہے، اور توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں اس حوالے سے مزید مباحثے سامنے آئیں گے کیونکہ فلم کی مقبولیت میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔