LIVE
Loading Breaking News...

سمندری طوفان ڈولفن چین میں داخل، حکام کا سیلابی افواہوں پر سخت ایکشن

News Image
چین کے وسطی علاقوں میں سمندری طوفان ڈولفن کے داخل ہونے سے شدید بارشوں اور سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ چینی حکام نے طوفان سے متعلق سوشل میڈیا پر افواہیں پھیلانے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے۔
چین کے ساحلی علاقوں سے ٹکرانے کے بعد سمندری طوفان 'ڈولفن' خشکی کی جانب بڑھ گیا ہے، جس کے نتیجے میں ملک کے وسطی حصوں میں شدید بارشوں اور سیلابی صورتحال نے جنم لیا ہے۔ ماہرینِ موسمیات کے اندازوں کے برعکس، یہ طوفان خشکی میں داخل ہونے کے بعد بھی اپنی شدت برقرار رکھے ہوئے ہے، جس کی وجہ سے حکام نے دارالحکومت بیجنگ سمیت کئی متاثرہ علاقوں میں ہنگامی الرٹ جاری کر دیے ہیں۔ طوفان کے باعث نشیبی علاقے زیرِ آب آ چکے ہیں جبکہ مواصلاتی نظام اور نقل و حمل کے ذرائع بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ اس سنگین صورتحال کے دوران، چینی حکام نے آن لائن پلیٹ فارمز پر سیلاب سے متعلق گردش کرنے والی 'افواہوں' پر سخت گرفت کا فیصلہ کیا ہے۔ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ بحران کی اس گھڑی میں سوشل میڈیا پر غلط معلومات پھیلانے سے عوام میں خوف و ہراس پیدا ہو رہا ہے اور امدادی کاموں میں رکاوٹیں کھڑی ہو رہی ہیں۔ سائبر اسپیس انتظامیہ نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ان تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی نگرانی کریں جو طوفان سے متعلق غیر تصدیق شدہ اور اشتعال انگیز مواد شیئر کر رہے ہیں، تاکہ سماجی نظم و ضبط کو برقرار رکھا جا سکے۔ بیجنگ کی جانب سے جاری کردہ ہدایات میں شہریوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ صرف سرکاری ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات پر ہی انحصار کریں۔ حکومتی مشینری، بشمول ریسکیو ٹیمیں اور فوجی جوان، متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں سرانجام دے رہے ہیں تاکہ پھنسے ہوئے افراد کو محفوظ مقامات تک منتقل کیا جا سکے۔ طوفان ڈولفن کی شدت کے پیش نظر، حکام نے وارننگ دی ہے کہ آنے والے دنوں میں بارشوں کا سلسلہ مزید جاری رہ سکتا ہے جس سے دریاؤں میں طغیانی کا خطرہ برقرار ہے۔ موسمیاتی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ طوفان توقع سے زیادہ طاقتور ثابت ہوا ہے جس نے پورے خطے میں ہنگامی صورتحال پیدا کر دی ہے۔ حکومت نے عوامی مقامات پر سکیورٹی سخت کر دی ہے اور انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ سیلاب زدہ علاقوں میں بجلی کی فراہمی اور طبی سہولیات کی بحالی کو اولین ترجیح دی جائے۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں اور حکومتی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے اپنے تحفظ کو یقینی بنائیں۔