LIVE
Loading Breaking News...

لاہور میں الیکٹرک بائیکس کا استعمال اور طلب میں اضافہ

News Image
لاہور میں ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور ماحول دوست سواریوں کے رجحان کے باعث الیکٹرک موٹر سائیکلوں کی مانگ میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ طلباء اور عام شہریوں کی جانب سے ان بائیکس کو ترجیح دی جا رہی ہے تاکہ سفر کو سستا اور آسان بنایا جا سکے۔
لاہور میں الیکٹرک بائیکس کا استعمال تیزی سے مقبول ہو رہا ہے کیونکہ شہری بڑھتی ہوئی مہنگائی اور پیٹرول کی قیمتوں سے نجات حاصل کرنے کے لیے نئے متبادل تلاش کر رہے ہیں۔ موجودہ دور میں الیکٹرک موٹر سائیکلیں نہ صرف ماحول دوست ثابت ہو رہی ہیں بلکہ یہ یومیہ سفر کرنے والے افراد اور بالخصوص طلباء کے لیے انتہائی معاشی ثابت ہو رہی ہیں۔ شہر کے مختلف علاقوں میں ان بائیکس کے خریداروں کی تعداد میں روز بروز اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق، روایتی پیٹرول سے چلنے والی موٹر سائیکلوں کے مقابلے میں الیکٹرک بائیکس کے اخراجات انتہائی کم ہیں۔ اسے گھر پر عام بجلی کے ساکٹ سے چارج کیا جا سکتا ہے، جس سے پیٹرول کے ماہانہ خرچ میں نمایاں بچت ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ، ان گاڑیوں کی دیکھ بھال کے اخراجات بھی نہ ہونے کے برابر ہیں کیونکہ ان میں انجن آئل یا اس طرح کے دیگر پرزہ جات کی ضرورت نہیں ہوتی جو بار بار تبدیل کرنے پڑیں۔ دوسری جانب، تعلیمی اداروں کے طلباء کے لیے الیکٹرک سکوٹرز ایک بہترین اور باسہولت سواری کے طور پر ابھر رہے ہیں۔ یونیورسٹیز اور کالجوں کے طلبا اپنے روزمرہ کے کیمپس کے سفر کے لیے ان بائیکس کو ترجیح دے رہے ہیں کیونکہ یہ آواز اور دھوئیں سے پاک ہوتی ہیں۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کی جانب سے بھی پائیدار توانائی اور گرین ٹرانسپورٹ کے فروغ کے لیے اس قسم کے اقدامات کی حمایت کی جا رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں توقع کی جا رہی ہے کہ الیکٹرک بائیکس کی مارکیٹ میں مزید وسعت آئے گی اور مقامی سطح پر ان کی تیاری اور مرمت کے مراکز میں بھی اضافہ ہوگا۔ شہری حلقوں نے اس تبدیلی کو خوش آئند قرار دیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ اس سے نہ صرف نجی اخراجات میں کمی آئے گی بلکہ لاہور کے فضائی آلودگی کے مسائل میں بھی کچھ حد تک بہتری لانے میں مدد ملے گی۔