World
یورپ میں مکمل شمسی گرہن کا نایاب منظر
برطانیہ کے علاقے کارنوال میں سورج کا 95 فیصد حصہ چاند کے پیچھے چھپ گیا جبکہ اسپین کے کچھ حصوں میں مکمل گرہن کا شاندار منظر دیکھا گیا۔ اس نایاب فلکیاتی واقعے کو دیکھنے کے لیے کروڑوں شائقین گھروں سے باہر نکل آئے۔
برطانیہ اور یورپ کے مختلف حصوں میں ایک تاریخی اور نایاب فلکیاتی واقعے نے کروڑوں شہریوں کو اپنے سحر میں جکڑ لیا، جب چاند نے سورج کو اپنے تاریک سائے میں لے لیا۔ یہ شمسی گرہن، جسے ماہرین فلکیات نے نسلوں میں ایک بار ہونے والا واقعہ قرار دیا ہے، برطانیہ کے علاقے کارنوال میں انتہائی واضح تھا۔ یہاں چاند نے سورج کے 95 فیصد سے زائد حصے کو ڈھانپ لیا، جس کے نتیجے میں دن کے وقت بھی اچانک گہری تاریکی چھا گئی اور درجہ حرارت میں نمایاں کمی محسوس کی گئی۔
اسپین کے کچھ حصوں میں تو منظر اور بھی دلفریب تھا، جہاں شہریوں کو مکمل شمسی گرہن کا جادوئی نظارہ دیکھنے کا موقع ملا۔ مکمل گرہن کے دوران سورج کے گرد روشنی کا ایک سنہرا ہالہ بن گیا، جسے دیکھ کر مقامی لوگ اور سیاح حیران رہ گئے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے گرہن صدیوں میں ایک بار دیکھنے کو ملتے ہیں اور یہ انسانی مشاہدے کے لیے سائنس اور قدرت کے امتزاج کا ایک بہترین نمونہ ہیں۔ اس نادر موقع کو محفوظ کرنے کے لیے ماہرینِ فلکیات نے خصوصی انتظامات کیے تھے تاکہ عام شہریوں کو اس کے مضر اثرات سے بچاتے ہوئے اس خوبصورت عمل کا مشاہدہ کروایا جا سکے۔
اس پورے واقعے کے دوران سائنسی اداروں اور یونیورسٹیز کی جانب سے ڈیٹا اکٹھا کرنے کا عمل بھی جاری رہا تاکہ سورج کی بیرونی فضا اور چاند کے اثرات کا مزید بہتر طریقے سے مطالعہ کیا جا سکے۔ دنیا بھر سے شائقین اس گرہن کو دیکھنے کے لیے ان علاقوں کا رخ کر چکے تھے جہاں گرہن کا اثر سب سے زیادہ تھا۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر بھی اس واقعے کی تصاویر اور ویڈیوز وائرل ہوتی رہیں، جس میں لوگوں کو اس فلکیاتی تبدیلی پر خوشی اور حیرت کا اظہار کرتے دیکھا گیا۔ یہ دن تاریخ میں ایک ایسے یادگار لمحے کے طور پر درج ہو گیا ہے جس نے سائنس کے شائقین کو دوبارہ کائنات کے رازوں پر غور کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔