LIVE
Loading Breaking News...

یمن میں امریکی حملے: 2025 کے دوران 153 شہریوں کی ہلاکت کا انکشاف

News Image
پینٹاگون کی ایک غیر خفیہ جائزہ رپورٹ سے یمن میں حوثیوں کے خلاف امریکی مہم کے دوران ہونے والے شہری نقصانات کی ہولناک تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق سال 2025 کے دوران امریکی فضائی و فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں مجموعی طور پر ایک سو ترپن بے گناہ شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
واشنگٹن (نیکسریا نیوز اردو) امریکی محکمہ دفاع یعنی پینٹاگون کے ایک نئے اور غیر خفیہ جائزے سے یمن میں حوثی جنگجوؤں کے خلاف جاری امریکی فوجی مہم کے دوران شہریوں کو پہنچنے والے جانی نقصان کی انتہائی تشویشناک تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔ اس نئی رپورٹ کے مطابق سنہ 2025 کے دوران یمن میں کیے جانے والے مختلف امریکی فضائی اور فوجی حملوں کی زد میں آ کر کم از کم ایک سو ترپن (153) بے گناہ شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ اعداد و شمار واشنگٹن کی جانب سے خطے میں چلائی جانے والی کارروائیوں کے انسانی اثرات پر ایک نئی بحث کو جنم دے رہے ہیں۔ امریکہ کی جانب سے یہ کارروائیاں بحیرہ احمر اور گردونواح میں بین الاقوامی بحری تجارت کے تحفظ اور حوثی فورسز کی عسکری صلاحیتوں کو کمزور کرنے کے مقصد کے تحت کی جا رہی ہیں۔ تاہم انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیمیں اور مقامی مبصرین مسلسل یہ تشویش ظاہر کرتے رہے ہیں کہ ان فضائی حملوں کا نشانہ اکثر عام رہائشی علاقے اور نجی املاک بھی بنتی ہیں، جس کے نتیجے میں بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ پینٹاگون کی اس تازہ رپورٹ نے ان خدشات کو مزید تقویت دی ہے اور اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ عسکری اہداف کے حصول کے دوران شہریوں کی ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں۔ دوسری جانب بین الاقوامی اور مقامی سطح پر انسانی حقوق کے حلقوں نے پینٹاگون کی اس رپورٹ کے بعد امریکی عسکری حکمت عملی پر کڑی تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جنگی کارروائیوں کے دوران عام شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مزید موثر اور سخت اقدامات اٹھانے کی اشد ضرورت ہے۔ مبصرین کے مطابق، اگرچہ پینٹاگون کی جانب سے اس قسم کے جائزوں کی اشاعت کو شفافیت کی جانب ایک قدم قرار دیا جا رہا ہے، لیکن اس کے باوجود زمینی حقائق انتہائی تکلیف دہ ہیں اور اس سے متاثرہ خاندانوں کو شدید صدمے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔