LIVE
Loading Breaking News...

امریکی وزیر دفاع کا آئی سی سی کی تحقیقات کے حوالے سے بڑا بیان

News Image
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیٹھ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت لاطینی امریکہ میں منشیات مخالف کارروائیوں کے دوران امریکی بحری حملوں کی تحقیقات کا آغاز کر سکتی ہے۔ ہیگسیٹھ نے عزم ظاہر کیا ہے کہ کولمبیا کی شمولیت کے بعد علاقائی فوجی اتحاد کے ساتھ مل کر منشیات کے کارٹلز کے خلاف مہم جاری رکھی جائے گی۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیٹھ نے ایک اہم بیان میں خبردار کیا ہے کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) لاطینی امریکہ میں منشیات کے کارٹلز کے خلاف جاری امریکی بحری حملوں اور کارروائیوں کی تحقیقات کا آغاز کر سکتی ہے۔ ہیگسیٹھ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن خطے میں منشیات کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اپنی عسکری سرگرمیوں کو تیز کر رہا ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ قانونی چارہ جوئی کا خطرہ موجود ہے، تاہم ان کا ملک اپنے تزویراتی اہداف سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ اس پیش رفت کے تناظر میں، امریکی وزیر دفاع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ کولمبیا نے باضابطہ طور پر علاقائی فوجی اتحاد میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔ یہ اتحاد لاطینی امریکہ میں منشیات کی سمگلنگ اور مجرمانہ تنظیموں کے نیٹ ورک کو توڑنے کے لیے تشکیل دیا گیا ہے۔ پیٹ ہیگسیٹھ کے مطابق، یہ نیا اتحاد منشیات فروشوں کے خلاف آپریشنز میں اہم کردار ادا کرے گا اور سمندری حدود میں امریکی فوج کی نگرانی اور کارروائیوں کو مزید مربوط بنائے گا۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکہ اس بات پر بضد ہے کہ منشیات کے خلاف یہ جنگ قومی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے۔ ہیگسیٹھ نے واضح کیا کہ اگرچہ آئی سی سی کی جانب سے تحقیقات کے خدشات موجود ہیں، لیکن امریکی انتظامیہ اپنے فوجیوں کے تحفظ اور منشیات کے کارٹلز کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔ اس نئی پالیسی کے تحت کولمبیا سمیت دیگر علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مل کر انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ کیا جائے گا تاکہ بحری راستوں سے ہونے والی غیر قانونی سرگرمیوں کو موثر طریقے سے روکا جا سکے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ کولمبیا کا اس اتحاد میں شامل ہونا واشنگٹن کے لیے ایک بڑی سفارتی اور عسکری کامیابی ہے۔ تاہم، بین الاقوامی عدالت کی ممکنہ مداخلت واشنگٹن اور لاطینی امریکی ممالک کے درمیان تعلقات میں ایک نیا قانونی موڑ پیدا کر سکتی ہے۔ آنے والے مہینوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا امریکہ اپنی جارحانہ بحری حکمت عملی کو جاری رکھتا ہے یا آئی سی سی کے دباؤ کے پیش نظر اپنے طریقہ کار میں کوئی تبدیلی لاتا ہے۔