World
فرانسیسی جنگی جہاز کی فائرنگ، برطانوی رکن پارلیمنٹ کا انکشاف
برطانوی شیڈو ہوم سیکریٹری کرس فلپ نے دعویٰ کیا ہے کہ جب وہ بی بی سی کو انٹرویو دے رہے تھے تو انگلش چینل میں ایک فرانسیسی جنگی جہاز نے سترہ گولیاں چلائیں۔ اس حیرت انگیز واقعے کے بعد برطانوی سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے اور مزید تفصیلات طلب کی جا رہی ہیں۔
برطانوی سیاست میں اس وقت سنسنی پھیل گئی جب شیڈو ہوم سیکریٹری کرس فلپ نے ایک ریڈیو انٹرویو کے دوران انکشاف کیا کہ انہوں نے اپنی آنکھوں سے ایک فرانسیسی جنگی جہاز کو فائرنگ کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ کرس فلپ کے مطابق جب وہ نشریاتی ادارے بی بی سی کے لیے انٹرویو ریکارڈ کرا رہے تھے، اسی دوران انگلش چینل کے پانیوں میں موجود اس بحری جہاز نے مبینہ طور پر سترہ گولیاں فائر کیں۔ یہ واقعہ انتہائی غیر معمولی نوعیت کا ہے کیونکہ یہ برطانوی سمندری حدود کے قریب یا اسی سے متصل علاقوں میں پیش آیا، جس نے سکیورٹی کے حوالے سے بھی کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ اس انکشاف کے سامنے آنے کے بعد برطانوی دارالحکومت لندن میں سیاسی حلقے حرکت میں آ گئے ہیں اور اس بات کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ آیا یہ معمول کی عسکری مشق تھی یا کسی بڑے واقعے کا پیش خیمہ۔ دوسری طرف، اس واقعے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات اور سمندری تعاون کے حوالے سے بھی نئے مباحثے شروع ہو چکے ہیں۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے واقعات انتہائی حساس ہوتے ہیں اور ان پر فوری سفارتی سطح پر وضاحت طلب کی جانی چاہیے تاکہ کسی بھی قسم کے غلط فہمی یا تنازع سے بچا جا سکے۔ کرس فلپ کے اس بیان کے بعد برطانوی حکومت پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ اس معاملے کی مکمل تحقیقات کرے اور عوام کو اعتماد میں لے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں اس واقعے کی مزید تفصیلات اور سرکاری ردعمل سامنے آئے گا، جو اس واقعے کی اصل وجوہات کو واضح کرے گا۔