LIVE
Loading Breaking News...

ٹام ہالینڈ کا آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے مستقبل پر اہم تبصرہ

News Image
ہالی وڈ اسٹار ٹام ہالینڈ نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت کبھی بھی انسانی تخلیقی صلاحیتوں کا متبادل نہیں بن سکتی کیونکہ اس میں انسانی جذبات اور روح کی کمی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے اثرات کے باوجود آرٹ کی اصل قدر انسان کے اندر چھپی ہوتی ہے۔
ہالی وڈ کے مشہور اداکار ٹام ہالینڈ نے حال ہی میں فلم انڈسٹری میں مصنوعی ذہانت (AI) کے بڑھتے ہوئے کردار اور اس کے مستقبل پر اپنے خیالات کا کھل کر اظہار کیا ہے۔ ایک حالیہ انٹرویو کے دوران، سپائیڈر مین اسٹار نے زور دے کر کہا کہ مصنوعی ذہانت کے جدید ٹولز کتنے ہی طاقتور کیوں نہ ہو جائیں، وہ کبھی بھی انسانی تخلیقی صلاحیتوں، جذبات اور فنکارانہ گہرائی کا متبادل نہیں بن سکتے۔ ہالینڈ کے مطابق، آرٹ کا بنیادی جوہر انسان کے تجربات اور اس کی روح سے جڑا ہوتا ہے جو کہ مشینوں میں سرے سے موجود ہی نہیں۔ ٹام ہالینڈ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پوری فلم انڈسٹری، بشمول رائٹرز، ہدایت کار، اداکار اور اسٹوڈیوز، اس بات پر بحث کر رہے ہیں کہ مصنوعی ذہانت آنے والے وقتوں میں تفریح کے شعبے کو کس طرح تبدیل کرے گی۔ جہاں کچھ لوگ اے آئی کو فلم سازی کے عمل کو تیز اور آسان بنانے والے ایک بہترین ٹول کے طور پر دیکھتے ہیں، وہیں فنکار برادری اس بات سے خوفزدہ ہے کہ کہیں یہ ٹیکنالوجی تخلیقی پیشوں میں انسانوں کی ضرورت کو ختم نہ کر دے۔ ٹام ہالینڈ نے اس بحث میں ایک متوازن موقف اختیار کرتے ہوئے ٹیکنالوجی کی افادیت کو تسلیم کیا لیکن انسانی جذبات کی برتری پر اصرار کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک اداکار کے لیے کیمرے کے سامنے اداکاری کرنا صرف سکرپٹ پڑھنا نہیں ہوتا بلکہ یہ ایک ایسا عمل ہے جس میں کردار کے دکھ، خوشی اور انسانی نفسیات کا گہرا دخل ہوتا ہے۔ مصنوعی ذہانت شاید مناظر کی منظر کشی کر سکے یا سکرپٹ لکھنے میں مدد دے سکے، لیکن جو تاثیر ایک زندہ انسان اپنی اداکاری سے پیدا کرتا ہے، اسے ڈیجیٹل کوڈز کے ذریعے نقل کرنا ناممکن ہے۔ ٹام ہالینڈ کا ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی اور انسانی تخلیق کا ایک ایسا امتزاج ہونا چاہیے جہاں مشین انسان کی مددگار تو بنے لیکن وہ تخلیق کار کی جگہ نہ لے سکے۔ آخر میں، ہالینڈ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پوری دنیا کو اب اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہم کس طرح کے مستقبل کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اگر فلم انڈسٹری میں اے آئی کا بے جا استعمال کیا گیا تو اس سے نہ صرف فنکار بے روزگار ہو سکتے ہیں بلکہ سنیما کی وہ روح بھی مر جائے گی جس کی وجہ سے لوگ فلموں کو پسند کرتے ہیں۔ ان کا یہ بیان ہالی وڈ کے حلقوں میں کافی سراہا جا رہا ہے اور یہ بحث دوبارہ چھڑ گئی ہے کہ آرٹ کی صنعت میں ٹیکنالوجی کی حدیں کہاں ختم ہونی چاہئیں۔