Technology
مارک زکربرگ کا نیا اے آئی منشور اور ٹیکنالوجی کی سیاست
میٹا کے سی ای او مارک زکربرگ کی جانب سے حال ہی میں جاری کیا گیا اے آئی منشور ٹیکنالوجی کی دنیا میں بحث کا مرکز بنا ہوا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام زکربرگ کی اپنی ساکھ کو پاپولسٹ رہنما کے طور پر دوبارہ بنانے کی ایک کوشش ہے۔
ٹیکنالوجی اور سیاست کے سنگم پر جاری ہونے والی حالیہ خبروں میں میٹا کے سی ای او مارک زکربرگ کا نیا اے آئی منشور نمایاں رہا ہے۔ مارک زکربرگ ایک بار پھر ایک ایسے بیانیے کے ساتھ سامنے آئے ہیں جسے سیاسی ماہرین پاپولسٹ ری برانڈنگ قرار دے رہے ہیں۔ برسوں سے اپنی ساکھ کے بحرانوں میں گھرے رہنے کے بعد، زکربرگ اب مصنوعی ذہانت کے ذریعے ایک نئے انسان دوست امیج کو پیش کرنے کی کوشش میں ہیں۔ ان کا یہ منشور محض تکنیکی دستاویز نہیں بلکہ ایک ایسی حکمت عملی ہے جس کا مقصد عوامی حلقوں میں خود کو ایک ذمہ دار لیڈر کے طور پر منوانا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ منشور ایک روبوٹ کی جانب سے انسانیت کو سمجھنے اور اسے اپنانے کی بہترین کوشش ہے، لیکن اس کے پیچھے موجود تجارتی مفادات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ماضی میں فیس بک اور میٹا کو ڈیٹا پرائیویسی اور عوامی رائے کو متاثر کرنے جیسے سنگین الزامات کا سامنا رہا ہے۔ موجودہ حالات میں جب دنیا بھر میں اے آئی کے اخلاقی استعمال پر سوالات اٹھ رہے ہیں، زکربرگ کی یہ کوشش کتنی کامیاب ہوگی، یہ دیکھنا ابھی باقی ہے۔ ناقدین کا یہ بھی ماننا ہے کہ زکربرگ کا یہ انداز عوامی غصے کو ٹھنڈا کرنے اور ریگولیٹرز کو خوش کرنے کا ایک منظم طریقہ کار ہے۔
ٹیکنالوجی کی دنیا میں اس منشور کو مختلف زاویوں سے دیکھا جا رہا ہے۔ ایک طرف جہاں کچھ لوگ اسے اے آئی کے مستقبل کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دے رہے ہیں، وہیں دوسری طرف اسے محض ایک کارپوریٹ پروپیگنڈا مانا جا رہا ہے۔ زکربرگ کی خواہش ہے کہ وہ نہ صرف ٹیکنالوجی کے بانیوں میں شمار ہوں بلکہ ایک ایسے فلسفی کے طور پر بھی جانے جائیں جو ٹیکنالوجی کے ذریعے انسانی فلاح و بہبود کے خواب دیکھتا ہے۔ تاہم، کیا یہ منشور حقیقت پر مبنی ہے یا محض الفاظ کا گورکھ دھندہ، یہ فیصلہ آنے والا وقت ہی کرے گا۔ آخرکار، ایک ایسا شخص جو برسوں سے الگورتھم کے ذریعے دنیا کو کنٹرول کرنے کا الزام سہہ رہا ہو، اس کا انسانیت کے بارے میں بات کرنا کافی دلچسپ اور تضادات سے بھرپور ہے۔