Business
ٹرمپ میڈیا کا ٹروتھ سوشل ڈیٹا بیچنے کا فیصلہ: کیا یہ ایک قانونی اقدام ہے؟
ٹرمپ میڈیا اینڈ ٹیکنالوجی گروپ نے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم کے ڈیٹا تک رسائی کے لیے ماہانہ ایک لاکھ ڈالر کا پیکیج متعارف کروا دیا ہے۔ اس اقدام پر ماہرین کی جانب سے ڈیٹا کی سیکیورٹی اور کمپنی کے کاروباری ماڈل پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زیر ملکیت ٹرمپ میڈیا اینڈ ٹیکنالوجی گروپ نے اپنی آمدنی میں اضافے اور کاروباری ترقی کے حصول کے لیے ایک متنازعہ حکمت عملی اپنا لی ہے۔ کمپنی نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ وہ ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر موجود پوسٹس اور ڈیٹا تک تھرڈ پارٹی رسائی کے لیے ماہانہ ایک لاکھ ڈالر تک فیس وصول کرے گی۔ اس مقصد کے لیے کمپنی نے 'ٹروتھ اے پی آئی' (Truth API) کا نظام متعارف کروایا ہے جس کے ذریعے بیرونی کمپنیاں یا محققین پلیٹ فارم کے مواد تک رسائی حاصل کر سکیں گے۔
کمپنی کے سی ای او کیون میک گرن نے پیر کے روز سرمایہ کاروں کے ساتھ ایک اجلاس کے دوران انکشاف کیا کہ اب تک دس سے زائد گاہکوں نے اس اے پی آئی سروس کے لیے معاہدے کر لیے ہیں۔ کمپنی کا ماننا ہے کہ یہ اقدام ٹروتھ سوشل کو ایک فعال کاروباری ماڈل میں تبدیل کرنے کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہوگا۔ تاہم، اس اعلان کے بعد تکنیکی ماہرین اور پرائیویسی ایڈووکیٹس نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے صارفین کے ڈیٹا تک اس طرح کی مہنگی اور محدود رسائی نہ صرف شفافیت کے اصولوں کے منافی ہے بلکہ اس سے صارفین کی پرائیویسی کو بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام ٹرمپ میڈیا کی مالی مشکلات کو دور کرنے کی ایک کوشش ہے، کیونکہ کمپنی کو مسلسل مالی نقصان کا سامنا رہا ہے۔ سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ڈیٹا تک اس طرح کی کمرشل رسائی سے غلط معلومات کے پھیلاؤ یا ڈیٹا کے غلط استعمال کے خدشات بڑھ سکتے ہیں۔ اگرچہ ٹرمپ میڈیا کا دعویٰ ہے کہ وہ قانونی حدود کے اندر رہ کر کام کر رہے ہیں، لیکن سیاسی اور سماجی حلقوں میں اس فیصلے کو عوامی اعتماد کے سودے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا ریگولیٹرز اس معاملے پر کوئی ایکشن لیں گے یا ٹرمپ میڈیا اپنے اس متنازعہ کاروباری پلان کو آگے بڑھانے میں کامیاب رہتا ہے۔