LIVE
Loading Breaking News...

برطانیہ کے ساحلوں پر جیلی فش کا خطرہ اور حقیقت

News Image
برطانیہ کے ساحلی علاقوں میں جیلی فش کی موجودگی اور ان کے ڈنک کے خوف نے سیاحوں اور مقامی افراد کو تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس سمندری مخلوق کی غیر متوقع نوعیت اور دردناک ڈنک کے باعث احتیاطی تدابیر اختیار کرنا نہایت ضروری ہے۔
برطانیہ کے ساحلوں کا رخ کرنے والے سیاحوں اور مقامی شہریوں میں اکثر اس بات کا خوف پایا جاتا ہے کہ سمندر میں جیلی فش کی موجودگی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ جیلی فش کی غیر متوقع فطرت اور پانی کے اندر ان کی موجودگی کا اندازہ نہ ہونا لوگوں کو خوفزدہ کرتا ہے۔ اگرچہ ان کے ڈنک سے شدید تکلیف اور جِلد پر جلن جیسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں، لیکن کیا واقعی اس سمندری مخلوق سے اتنا ہی ڈرنے کی ضرورت ہے جتنا عام طور پر سمجھا جاتا ہے؟ ماہرینِ ماحولیات اور سمندری حیات کے محققین کا کہنا ہے کہ برطانیہ کے اردگرد پائی جانے والی زیادہ تر جیلی فش کی اقسام انسانوں کے لیے جان لیوا نہیں ہوتیں۔ تاہم، ان کا ڈنک تکلیف دہ ضرور ہو سکتا ہے، خاص طور پر بچوں اور حساس طبع افراد کے لیے۔ سمندری حیات کے ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ ساحلوں پر جانے والے افراد کو جیلی فش کے حوالے سے مکمل آگاہی حاصل ہونی چاہیے۔ موسمِ گرما کے دوران جب سمندری پانی کا درجہ حرارت بڑھتا ہے، تو جیلی فش کی تعداد میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے ان کے ساتھ انسانوں کا سامنا ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ ساحلی علاقوں میں انتظامیہ کی جانب سے اکثر وارننگ جاری کی جاتی ہیں تاکہ لوگ محتاط رہیں۔ اگر کسی کو جیلی فش کا ڈنک لگ جائے، تو گھبرانے کے بجائے فوری طور پر ابتدائی طبی امداد لینی چاہیے اور متاثرہ جگہ کو سرکے یا نیم گرم پانی سے دھونا چاہیے۔ اس حوالے سے ماہرین زور دیتے ہیں کہ احتیاطی تدابیر اپنا کر بغیر کسی بڑے خوف کے ساحلوں سے لطف اندوز ہوا جا سکتا ہے۔