LIVE
Loading Breaking News...

کریڈٹ کارڈز ڈیفالٹ میں اضافہ: ملکی معیشت کے لیے تشویشناک صورتحال

News Image
رواں برس کریڈٹ کارڈز پر ادائیگیوں میں ناکامی کی شرح 13 فیصد تک پہنچ گئی ہے جو کہ گریٹ ریسیشن کے بعد سب سے زیادہ ہے۔ ماہرین اس صورتحال کا ذمہ دار افراطِ زر اور معاشی غیر یقینی صورتحال کو قرار دے رہے ہیں۔
حال ہی میں جاری ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق کریڈٹ کارڈز پر قرضوں کی ادائیگی میں ناکامی یا تاخیر (Delinquencies) کی شرح 13 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ یہ شرح گزشتہ کئی برسوں کے دوران اپنی بلند ترین سطح پر ہے اور ماہرین اسے معاشی استحکام کے لیے ایک تشویشناک اشارہ قرار دے رہے ہیں۔ اعداد و شمار کا موازنہ کیا جائے تو یہ سطح گریٹ ریسیشن (عظیم کساد بازاری) کے اختتامی ایام کے بعد سب سے زیادہ ریکارڈ کی گئی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عام شہریوں کی قوتِ خرید اور قرض اتارنے کی صلاحیت شدید دباؤ کا شکار ہے۔ اس صورتحال کے پیچھے کئی اہم معاشی عوامل کارفرما ہیں، جن میں سب سے نمایاں کووڈ-19 کے بعد پیدا ہونے والی معاشی بدحالی ہے۔ عالمی وبا کے اثرات کے بعد سے مہنگائی کی شرح میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، جس نے عام آدمی کے بجٹ کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ اشیائے خوردونوش، یوٹیلیٹی بلز اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے متوسط طبقے کے لیے اپنے ماہانہ اخراجات پورے کرنا ایک چیلنج بن چکا ہے، جس کے نتیجے میں لوگ قرضوں کی اقساط ادا کرنے میں ناکام ہو رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ملازمتوں کے حوالے سے بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال بھی ایک اہم عنصر ہے۔ بہت سے افراد جو پہلے باقاعدگی سے کارڈز کے بل ادا کرتے تھے، اب یا تو ملازمت سے محروم ہو چکے ہیں یا ان کی آمدنی میں اتنا اضافہ نہیں ہوا کہ وہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کا مقابلہ کر سکیں۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک افراطِ زر کو کنٹرول نہیں کیا جاتا اور ملازمتوں کے مواقع میں بہتری نہیں آتی، تب تک ڈیفالٹ کی یہ شرح مزید بڑھنے کا خدشہ موجود ہے۔ بینکنگ سیکٹر کے لیے بھی یہ صورتحال خطرے کی گھنٹی ہے کیونکہ زیادہ ڈیفالٹ کا مطلب مالیاتی اداروں کے نقصانات میں اضافہ ہونا ہے۔ حکومتی سطح پر اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے اب فوری اقدامات کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ اگرچہ مرکزی بینک کی جانب سے شرح سود میں ردوبدل کے ذریعے معیشت کو متوازن کرنے کی کوششیں جاری ہیں، لیکن عام صارفین کی مالی حالت کو بہتر بنانے کے لیے طویل المدتی حکمتِ عملی درکار ہے۔ آنے والے مہینوں میں اگر قرضوں کی ادائیگی کا یہ رجحان اسی طرح برقرار رہا تو ملکی معیشت پر مزید بوجھ پڑنے اور صارفین کے اعتماد میں کمی آنے کا امکان ہے۔