Technology
مصنوعی ذہانت اور موسیقی، نک کیو نے اے آئی کو انسانیت کے لیے خطرہ قرار دے دیا
مشہور موسیقار نک کیو نے اے آئی کے ذریعے تخلیق کردہ فن پاروں کو انسانی جذبات کی نفی قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آرٹ صرف تکنیک نہیں بلکہ انسانی تجربات کا نچوڑ ہے۔
آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے عالمی شہرت یافتہ گلوکار، نغمہ نگار اور موسیقار نک کیو نے آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کے ذریعے تخلیق کردہ شاعری اور فن پاروں پر گہرے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے انسانی تخلیقی صلاحیتوں کی توہین قرار دیا ہے۔ نک کیو، جو اپنی گہری اور جذباتی شاعری کے لیے دنیا بھر میں جانے جاتے ہیں، کا ماننا ہے کہ آرٹ کا تعلق انسان کے ذاتی تجربات، درد، خوشی اور اس کی روح سے ہوتا ہے جسے مشینیں کبھی بھی نہیں سمجھ سکتیں۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ کمپیوٹر الگورتھم کے ذریعے تیار کردہ مواد محض ایک مضحکہ خیز نقل ہے جو انسانی تجربے کی گہرائیوں کو چھو نہیں سکتا۔
نک کیو کے مطابق، اے آئی ٹیکنالوجی اگرچہ بہت تیزی سے ترقی کر رہی ہے، لیکن یہ تخلیقی عمل کی جگہ نہیں لے سکتی۔ ان کا کہنا ہے کہ گیت لکھنا محض الفاظ کی ترتیب نہیں ہے بلکہ یہ وہ جذبات ہیں جو انسان اپنی زندگی میں محسوس کرتا ہے اور پھر انہیں موسیقی کے ذریعے بیان کرتا ہے۔ نک کیو نے واضح کیا کہ ایک مشین جو صرف ڈیٹا پر انحصار کرتی ہے، وہ کبھی بھی انسانی کرب یا محبت کی اصلیت کو نہیں سمجھ سکتی، اسی لیے اے آئی کی جانب سے تخلیق کردہ مواد کو 'انسانیت کا ایک مکروہ اور مضحکہ خیز مذاق' قرار دیا جانا درست ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ نک کیو کا یہ بیان موسیقی کی دنیا میں ایک نئی بحث کا آغاز ہے جہاں تخلیق کاروں کو خدشہ ہے کہ ٹیکنالوجی ان کی منفرد شناخت کو ختم کر دے گی۔ نک کیو کا یہ موقف ان لاکھوں فنکاروں کی ترجمانی کرتا ہے جو یہ مانتے ہیں کہ ٹیکنالوجی ایک آلہ تو ہو سکتی ہے، لیکن یہ تخلیق کار کا متبادل نہیں بن سکتی۔ ان کے مطابق، موسیقی اور ادب میں انسانی چھاپ کا ہونا لازمی ہے کیونکہ یہی وہ چیز ہے جو سننے والے کو فنکار سے جوڑتی ہے۔
آخر میں، نک کیو کا یہ موقف اس عالمی مباحثے کو تقویت دیتا ہے جس میں یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا ٹیکنالوجی واقعی انسانی تخلیقیت کو ختم کر دے گی یا پھر یہ صرف ایک عارضی رجحان ثابت ہوگا۔ نک کیو کی یہ تنقید ان تمام ڈیجیٹل کمپنیوں کے لیے ایک انتباہ ہے جو تیزی سے اے آئی ٹولز کو ہر شعبہ زندگی میں متعارف کروا رہی ہیں۔ انہوں نے اپنے مداحوں پر زور دیا کہ وہ انسانی فن اور مہارت کی قدر کریں اور تکنیکی مصنوعی پن کو آرٹ کے حقیقی جوہر پر فوقیت نہ دیں۔