World
نائیجیریا: خوراک کی درآمدات جاری رکھنے کا مطالبہ
ٹریڈ یونین کانگریس نے نائیجیریا کی حکومت پر زور دیا ہے کہ جب تک ملک میں بدامنی اور سیکورٹی کے مسائل حل نہیں ہو جاتے، خوراک کی درآمدات کو جاری رکھا جائے۔ یونین نے خبردار کیا ہے کہ اس پالیسی کو اچانک روکنے سے ملک میں مہنگائی کا طوفان آ سکتا ہے۔
ٹریڈ یونین کانگریس (TUC) نے نائیجیریا کی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ ملک میں جاری شدید سیکورٹی بحران کے پیش نظر خوراک کی درآمدات کے عمل کو بدستور جاری رکھے۔ یونین کا موقف ہے کہ جب تک ملک کے اندر زرعی علاقوں میں امن و امان قائم نہیں ہوتا اور کسان بلا خوف و خطر اپنی فصلیں کاشت نہیں کر پاتے، اس وقت تک درآمدات کو روکنا ایک غلط فیصلہ ہوگا۔ یونین نے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت نے درآمدی پالیسی کو فوری طور پر ختم کرنے یا اس میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کا فیصلہ کیا تو اس کے نتیجے میں ملک میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہو سکتا ہے، جس کا بوجھ عام عوام کو برداشت کرنا پڑے گا۔
حالیہ برسوں میں نائیجیریا کو زرعی پیداوار میں کمی کا سامنا ہے جس کی بنیادی وجہ ملک کے مختلف حصوں میں جاری بدامنی، دہشت گردی اور خانہ جنگی کی کیفیت ہے۔ زرعی زمینیں غیر محفوظ ہونے کی وجہ سے پیداوار میں نمایاں کمی آئی ہے، جس نے ملک کو درآمدات پر انحصار کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ مقامی پیداوار کو فروغ دینا حکومت کی ترجیح ہونی چاہیے، لیکن موجودہ حالات میں درآمدات کو مکمل طور پر بند کرنا غذائی قلت اور قحط जैसी صورتحال کو جنم دے سکتا ہے۔ ٹریڈ یونین کانگریس نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ایک طویل مدتی حکمت عملی تشکیل دے جس میں سیکورٹی بحران کے مستقل حل کے ساتھ ساتھ زرعی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے۔
یونین کی جانب سے جاری کردہ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ خوراک کی قیمتوں میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے حکومت کو درآمدی سہولیات جاری رکھنی چاہئیں تاکہ مارکیٹ میں سپلائی اور ڈیمانڈ کا توازن برقرار رہے۔ حکومت کے لیے یہ ایک بڑا چیلنج ہے کہ وہ ایک طرف غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو بچانے کے لیے درآمدات میں کمی لانا چاہتی ہے، تو دوسری طرف عوام کو سستی خوراک فراہم کرنا اس کی آئینی ذمہ داری ہے۔ ٹریڈ یونین کانگریس کا واضح پیغام ہے کہ عوام کی بنیادی ضرورت یعنی روٹی اور خوراک کو سیاست یا معاشی تجربات کی بھینٹ نہیں چڑھایا جانا چاہیے۔ آنے والے دنوں میں حکومت کا اس مطالبے پر کیا ردعمل ہوتا ہے، اس کا انتظار کیا جا رہا ہے، تاہم سیاسی و معاشی حلقوں میں اس مطالبے کو کافی اہمیت دی جا رہی ہے۔