Business
جنوبی کوریا کی مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس میں بھاری سرمایہ کاری
جنوبی کوریا کی جانب سے مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس جیسے اسٹریٹجک شعبوں میں ایک ٹریلین وون سے زائد کی سرمایہ کاری کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ یہ اقدام عالمی سطح پر جاری تکنیکی دوڑ میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
جنوبی کوریا نے عالمی سطح پر جاری مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور روبوٹکس کی دوڑ میں شامل ہونے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق، جنوبی کوریا اگلے برس ایک نئے 'ساورین ویلتھ فنڈ' کے تحت ایک ٹریلین وون (تقریباً 707 ملین امریکی ڈالر) سے زائد کی نئی سرمایہ کاری کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد جدید ترین اسٹریٹجک صنعتوں میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنا اور ان شعبوں میں تکنیکی برتری حاصل کرنا ہے جن پر مستقبل کی عالمی معیشت کا انحصار ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب دنیا بھر کی بڑی معیشتیں اے آئی اور خودکار ٹیکنالوجی میں اپنی صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے وسائل کو متحرک کر رہی ہیں۔
حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ یہ سرمایہ کاری نہ صرف مقامی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو فروغ دے گی بلکہ عالمی منڈی میں جنوبی کوریا کے اثر و رسوخ کو بھی بڑھائے گی۔ اے آئی اور روبوٹکس کو موجودہ دور میں صنعتی انقلاب کا اہم ستون سمجھا جاتا ہے، اور جنوبی کوریا ان شعبوں میں اپنی تحقیق اور ترقی کے عمل کو تیز کرنا چاہتا ہے۔ اس فنڈ کے ذریعے نجی اور سرکاری شعبوں میں باہمی تعاون کو فروغ دیا جائے گا تاکہ تحقیق کو عملی شکل دے کر مارکیٹ تک رسائی کو آسان بنایا جا سکے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ فنڈ نہ صرف معاشی ترقی کا باعث بنے گا بلکہ جنوبی کوریا کی ٹیکنالوجی کو عالمی سطح پر مزید مسابقتی بنائے گا۔ حکومت کی طرف سے اتنی بڑی رقم مختص کرنا اس بات کا غماز ہے کہ جنوبی کوریا تکنیکی ترقی کو اپنی قومی ترجیحات میں سب سے اوپر رکھتا ہے۔ توقع ہے کہ اس سرمایہ کاری سے روبوٹکس اور اے آئی کے شعبے میں ہزاروں نئی ملازمتیں پیدا ہوں گی اور ملک کو ڈیجیٹل دور کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنے میں مدد ملے گی۔ آنے والے وقتوں میں یہ فنڈ عالمی سطح پر جاری 'ٹیکنالوجی وار' میں جنوبی کوریا کے لیے ایک مضبوط ہتھیار ثابت ہوگا۔